زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 210
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 210 جلد اول کئی سال سے دبے ہوئے تھے وہ کہتے ہیں کہ ہمارا بھی حق ہے کہ ظاہر ہوں۔یہ کیفیت سرور ، لذت اور درد کا مجموعہ ہے۔مگر یہ درد پیارا ہے کیونکہ اگر اس سے حصہ نہ لیا جائے تو مسرت کامل نہیں ہوتی۔یہ درد ایسا ہی ہے جیسا پھوڑے کو سہلانے سے ہوتا ہے۔پس یہ در دلطیف ہے اور یہ تکلیف مزے دار ہے۔جو لوگ اس درد اور اس لذت سے خالی ہیں اور جن کے قلوب میں یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی وہ لذت اور مسرت سے ناواقف ہیں۔کوئی مسرت سے واقف بول اس درد کی کیفیت کے قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا بلکہ چاہتا ہے کہ یہ درد اور یہ کیفیت ہمیشہ طاری رہے۔مفتی صاحب کا سفر انگلستان اور پھر سفر امریکہ اس میں حقیقی سفر امریکہ کا ہی ہے اور اس میں جو کامیابی ہوئی ہے وہ فتوحات کا دروازہ کھولنے والی ہے۔انگلستان ( کی ) یہ حالت ہے کہ پہلے ہی آثار سے ثابت ہو رہا ہے وہ تبلیغ کے لئے سیڑھی تو ہو سکتا ہے لیکن مقصد نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جس ملک کے لوگ حاکم ہوں وہ اپنے آپ کو ماتحتوں سے معزز سمجھتے ہیں اور ان میں ایک قسم کا تکبر ہوتا ہے اس لئے انگلستان والے مسیح موعود کی عزت نہیں کر سکتے جب تک ہر طرف سے آواز نہ آئے کہ مسیح موعود آ گیا اور اس کو ماننا چاہئے۔مگر امریکہ والوں کی حالت انگلستان والوں سے مختلف ہے۔ہم ان کی رعایا کی حیثیت نہیں رکھتے۔انگلستان والوں کے ذہن میں تو یہ بات نہیں آسکتی کہ کوئی ترقی ان کی رعایا کے لوگ ان سے بڑھ کر کر سکتے ہیں۔ان کا تکبران کو اس بات کی اجازت نہ دے گا کہ وہ حاکم ہو کر مسیح موعود کے غلام بنیں۔وہ اگر ہمارے مشن کی طرف توجہ کرتے ہیں تو تماشہ کے طور پر۔جیسے دو بچے کھیل رہے ہوں اور دیکھنے والے دل بڑھانے کے لئے کہا کرتے ہیں واہ واہ بڑا بہادر ہے۔حالانکہ اس بچے کو واقعی بہادر نہیں سمجھا جاتا۔اسی طرح اگر وہ ہماری کسی خوبی کی تعریف کرتے ہیں تو صرف اس طرح کہ گویا وہ بچوں کا تماشہ دیکھ رہے ہیں اور دل بڑھانے کے لئے تعریف کرتے ہیں۔پس اصل زمانہ مفتی صاحب کے کام کا وہی ہے جو امریکہ میں انہوں نے گزارا۔