زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 212

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 212 جلد اول کھال کا اگر بہت زیادہ حصہ جل جائے اور بہت تھوڑا باقی رہ جائے تو وہ انسان بچ نہیں سکتا۔اسی طرح اگر کسی قوم کے زیادہ افراد قومی کام کو اپنا فرض خیال نہ کریں اور چند کریں یا بالفاظ دیگر چند زندہ ہوں اور باقی مردہ تو کیسے وہ قوم یا جماعت زندہ رہ سکتی ہے۔پس میں اپنی جماعت کے نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تبلیغ سب احمدیوں کا فرض ہے اور یہ فرض کفایہ نہیں کہ ایک نے کر دیا تو باقیوں کا فرض بھی ادا ہو گیا۔بلکہ ہر ایک شخص کے خود کرنے کا کام ہے۔اگر ہر ایک شخص خود اپنا کام نہیں کرے گا تو اس کا کام نہیں ہو گا۔اگر تم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ احساس نہیں کہ تبلیغ اس نے کرنی ہے تو گویا تم نے اپنے ایڈریس میں صداقت سے کام نہیں لیا اور تم کامیابی بھی حاصل نہیں کر سکتے۔اور نہ حضرت اقدس کی پیشگوئیاں تمہارے ذریعہ پوری ہوسکتی ہیں۔گو وہ ضرور پوری ہوں گی مگر ان کے پورا کرنے والے تم نہ ہو گے کوئی اور ہو گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تبلیغ فرض کفایہ نہیں۔جس طرح نماز میں قائم مقامی نہیں ہو سکتی اسی طرح تبلیغ میں بھی قائم مقامی نہیں ہو سکتی اور مفتی صاحب کے آنے پر آپ کی خوشی بھی تبھی تسلیم کی جائے گی جب کہ آپ بھی وہی کام کریں جو مفتی صاحب نے کیا ہے۔اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ سب امریکہ ہی جائیں بلکہ جہاں بھی تبلیغ کی ضرورت ہے آپ تبلیغ کریں اور یہ خیال درست نہیں کہ اور جگہ کی تبلیغ آسان ہے۔ہم کئی سال سے ایک جگہ کوشش کر رہے ہیں مگر ایک بھی شخص ان میں سے ابھی تک داخل اسلام نہیں ہوا۔پس ہر ایک شخص سے خواہ وہ کتنا ہی گرا ہوا ہو اور اس کا مذہب کتنا ہی ادنیٰ درجہ کا ہو اس سے مذہب بدلوانا مشکل ہے۔اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ جو دنیاوی لحاظ سے ادنی سمجھے جاتے ہیں ان کو ہم چھوڑ دیں۔ان میں تبلیغ کرنا بھی ہمارا ایسا ہی فرض ہے جیسا یورپ اور امریکہ کے لوگوں میں تبلیغ کرنا۔ایسے لوگوں میں ہم اپنے گھروں اور اپنے وطنوں میں رہتے ہوئے تبلیغ کر سکتے ہیں۔ہاں اگر کہیں باہر جا کر تبلیغ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس وقت ہم اپنے بال بچوں کو دین کے لئے نہیں چھوڑ سکتے تو پھر ہم کسی