زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 209
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 209 جلد اول ایک عزم اور اپنے کام کو کامیابی سے سرانجام دینے کا خیال ہوتا ہے اور جب وہ ان مشکلات میں سے گزر کر اور اپنے کام کو ختم کر کے آتا ہے تو اسے ان مشکلات کی یاد آتی ہے جن میں اس کو خیال آتا تھا کہ اگر میرے عزیز میرے پاس ہوتے تو میری مشکلات میں کمی کا موجب ہوتے۔جب وہ آتا ہے تو ان مشکلات کا تصور جو کام کرتے وقت مفقود یا کام کرنے کی دھن میں بھولا ہوا ہوتا ہے ایک دم سے ابھر پڑتا ہے اس لئے اس کی بھی رنج اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔اسی طرح جن کا عزیز واپس آتا ہے اس کی غیر حاضری میں ان کے دل میں دو جذ بے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ آئے دوسرے یہ کہ کامیاب واپس آئے۔لیکن جب وہ آتا ہے تو ان کے دل میں بھی ایک درد اور مسرت کی مخلوط کیفیت موجزن ہوتی ہے۔دونوں کے دلوں کی تکالیف کے دبے ہوئے خیالات جو پہلے ایک گوشہ میں پڑے تھے اس وقت ان سے کہتے ہیں کہ اب ذرا ہمیں بھی ظاہر ہو لینے دو اور وہ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔در حقیقت یہ ایک محبت اور خوشی کا جذبہ ہوتا ہے مگر ایسا کہ چہرے ہنس رہے ہوتے ہیں اور آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔جہاں وہ عزیز جو باہر تھا کام کی دھن میں مشکلات سے بے پرواہ ہوتا ہے وہاں اس کے وہ عزیز جو گھر پر ہوتے ہیں ان مشکلات کے حل ہونے کے لئے دعاؤں میں مصروف ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب مشکلات کا ہجوم ہو اس وقت انسان جزع فزع نہیں کیا کرتا۔لیکن جب وہ ایک دوسرے کے سامنے ہوتے ہیں جدائی ختم ہو جاتی ہے تو دبے ہوئے درد کے جذبے ظاہر ہو جاتے ہیں اور مسرت کی لہریں اٹھنے لگتی ہیں۔یہ کیفیات انسان پر طاری ہوتی ہیں جو کسی زبان میں ادا نہیں ہو سکتیں۔کوئی فصیح و بلیغ ان کو ادا نہیں کر سکتا۔قلب محسوس کرتا ہے چہرہ ظاہر کرتا ہے مگر زبان بیان نہیں کر سکتی۔مفتی صاحب کے واپس آنے پر میری اور دوسرے احباب کی جو کیفیت ہے وہ یہی ہے۔ان کو جو ایڈریس پیش کیا گیا ہے وہ بھی ان دونوں کیفیات کو ظاہر کرتا ہے۔یہی وہ فطری جذبہ ہے جس کی طرف میں اوپر اشارہ کر آیا ہوں۔کیونکہ جانبین میں جو جذبات