زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 204
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 204 جلد اول رہی ہے۔چاروں طرف گمراہی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ ان تک سچا دین پہنچے مگر ان میں سچے دین کے پر کھنے کی طاقت نہیں۔اس طاقت کا پیدا کر نا تمہارا کام ہے۔جب یہ طاقت ان میں پیدا ہو جائے گی تو وہ خود صداقت کو قبول کر لیں گے۔ہاں کی صداقت کا پیش کرنا ضروری ہے۔اس وقت تو ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ ہم جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ زہر آلود پانی ہے اس لئے اسے وہ رد کرتے ہیں۔تمہارا یہ کام ہے کہ یہ ثابت کرو کہ یہ زہر آلود پانی نہیں بلکہ تریاق ہے اور اسی کے ذریعہ روحانی اور مذہبی زندگی قائم رہ سکے گی۔جب تم یہ ثابت کر دو گے تو لوگ خود بخو د قبول کرلیں گے۔پس میں پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہم اس علاقہ کو خالی نہیں چھوڑ سکتے جہاں سے میاں محمد امین آئے ہیں۔اور یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ان سے قصے سن لیں اور خاموش ہو کر بیٹھے رہیں۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کوئی کام شروع کر کے چھوڑ دیتے ہیں بلکہ میں تو جس کام کو شروع کرتا ہوں اس کو جاری رکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور کامیابی حاصل کرنے کا یہی طریق ہے کہ کام کو شروع کر کے پھر چھوڑا نہ جائے۔پس وہاں تبلیغی وفد جانا ضروری ہے۔ایک شخص تو میں نے تجویز کر لیا ہے جس کا میں نام نہیں ظاہر کر سکتا۔کیونکہ ہمارے لئے کئی قسم کی مشکلات ہیں۔ممکن ہے اس کو بھی اسی طرح جانا پڑے جس طرح محمد امین صاحب گئے تھے۔مگر اب ایک سے زیادہ آدمیوں کو بھیجنے کی ضرورت ہے۔بعض تبلیغ کا کام کریں اور بعض خطوط لا کر ایران میں ڈالنے کے کام پر ہوں تا کہ ہمیں اطلاع ملتی رہے۔ایران تک کا سفر لمبا بھی ہے اور خطر ناک بھی اس لئے ممکن ہے کہ سال بھر میں ایک آدمی ایک آدھ خط ہی لا سکے۔اس وجہ سے کم از کم ایسے چار آدمیوں کی ضرورت ہے۔اسی طرح کئی ایسے آدمی چاہئیں جو مختلف مرکزوں میں بیٹھ کر کام شروع کریں۔پس اسی لئے میں نے پہلے بھی تحریک کی تھی اور اب پھر کرتا ہوں کہ جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ اپنے آپ کو اس کام کے لئے آمادہ رکھیں اور اپنے نام دفتر تالیف واشاعت میں دے دیں۔ان میں سے جو مناسب ہوں گے ان کو میں اطلاع دے دوں گا۔پھر جیسی مصلحت ہوئی ظاہر یا پوشیدہ ان کو روانہ کر دیا