زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 203

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 203 جلد اول صلى الله الله فرمایا۔مردم شماری ہوئی سارے مرد عورتیں بچے ملا کر سات سو مسلمان ہوئے۔اس پر ایک صحابی نے رسول کریم ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا اب بھی ہم تباہ ہو سکتے ہیں۔2 ذرا ان کی ہمتیں اور حوصلے دیکھو۔سات سو کی تعداد جس میں عورتیں بچے بوڑھے سب شامل ہیں اس پر کہتے ہیں کہ اب ہم کو دنیا نہیں مٹا سکتی۔ہم ساری دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔مگر آج دیکھو کروڑوں مسلمان ہیں۔کوئی چالیس کروڑ بتا تا ہے اور کوئی ساٹھ کروڑ۔ہمیں کروڑ ہی مان لو مگر کس طرح کانپ رہے اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم آج تباہ ہوئے یا کل۔پس یا درکھو کا میابی کثرت اور قلت تعداد پر نہیں ہوتی بلکہ جرات اور دلیری، بہادری اور جوانمردی پر ہوتی ہے۔بہادر اور دلیر انسان اگر ایک بھی کھڑا ہو جائے تو کچھ کا کچھ کر کے دکھا دیتا ہے۔دیکھو جب رسول کریم ﷺ دنیا کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو آپ نے کثرت تعداد سے دشمنوں کو مغلوب کیا اور فتح حاصل کی تھی ؟ ہرگز نہیں۔پس یہ مت سمجھو کہ تعداد کی زیادتی فتح کر سکتی ہے اور یہ بھی مت خیال کرو کہ تم تعداد میں تھوڑے ہو۔جو چیز فتح کر سکتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور ہمارے ارادے اور حوصلے ہیں۔ہم اگر اس نیت سے کھڑے ہوں گے کہ اگر ساری دنیا بھی ہمارے مقابلہ پر آ جائے تو ہم کامیاب ہوں گے تو ضرور ہی خدا تعالیٰ ہمیں کامیاب کرے گا۔دیکھو جو لوگ جھوٹ کے لئے کمر بستہ ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر لیتے ہیں مگر جو حق کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ان کو تو خدا اور اس کے ملائکہ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔وہ کیوں کا میاب نہ ہوں۔پس میں اس وقت احمد یہ سکول کے لڑکوں اور دوسرے کالجوں کے لڑکوں کو جو یہاں آئے ہوئے ہیں کہتا ہوں یہ مت سمجھو کہ تم تھوڑے ہو۔تعداد کی زیادتی کی اس قدر ضرورت نہیں جس قدر اس امر کی ضرورت ہے کہ ہر ایک چیز دین کے لئے قربان کرنے کو کھڑے ہو جاؤ۔جب یہ بات تم میں پیدا ہو جائے گی تو پھر تمہارے رستہ میں کوئی چیز روک نہیں ہو سکے گی۔یہ وقت ہے کہ اس وقت تم اٹھ کھڑے ہو۔دنیا پکار پکار کر تمہیں بلا