زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 205

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 205 جلد اول جائے گا۔اس موقع پر میں یہ بھی تحریک کرتا ہوں کہ میاں محمد امین خان کا سفر نامہ ایسا دلچسپ ہے کہ اگر غور کیا جائے تو بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔بعد میں جانے والوں کو ان مشکلات کا علم اور ان کے حل کرنے کا طریق معلوم ہو سکتا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ سادہ الفاظ میں سفر نامہ لکھوا کر چھپوا دیا جائے۔یوں بھی سفر نامے قصہ کے طور پر ہوتے ہیں مگر ان کا سفر تو بہت دلچسپ ہے۔کیونکہ یہ بغیر خرچ کے گھر سے چلے۔کہیں بھوکے رہے کہیں پیاسے کہیں جیل میں رہے کہیں گھروں میں۔اس لئے ارادہ ہے کہ ان کا سفر نامہ چھپوا دیا جائے اور بچوں کو پڑھایا جائے تاکہ بچوں کے دلوں سے مشکلات اور تکالیف کا رعب مٹ جائے۔یورپ کے متعلق میں نے پڑھا ہے کہ وہاں ابن بطوطہ 3 اور رابن سن کر وسو ( 4Robinson Crusoe کے قصوں کی نے جس طرح ان لوگوں کی ترقی میں مدد دی ہے اور کسی کتاب نے نہیں دی۔ان کے قصے لڑکوں کو پڑھائے جاتے ہیں اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مشکلات میں اس طرح مقابلہ کیا ، یہ حالات پیش آئے ، اس طرح کامیابی حاصل ہوئی تو ان کے دل میں بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی باہر جائیں اور کامیابی حاصل کریں، مشکلات پر غالب آئیں۔مگر ہمارے ملک میں دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی افریقہ بھی جاتا ہے تو ماتم پڑ جاتا ہے حالانکہ یورپ والے لڑائی پر بھی جاتے ہیں تو کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔تو سفری قصوں سے ایک تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ باہر جا کر سیر کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے دوسرے یہ کہ مشکلات سے آگا ہی ہوتی ہے اور ان پر غالب آنے کے طریق معلوم ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کوئی بے وقوف بادشاہ تھا۔اس نے خیال کیا فوجوں پر خواہ مخواہ اتنا روپیہ صرف ہوتا ہے ان کے رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے بجائے قصائیوں سے لڑائی کے وقت کام لینا چاہئے۔یہ خیال کر کے اس نے فوجوں کو موقوف کر دیا۔یہ معلوم کر کے غنیم نے حملہ کر دیا جس کے مقابلہ کے لئے قصائیوں کو بھیج دیا گیا۔مگر وہ جلد ہی بھاگ آئے۔پوچھا کیوں بھاگے؟ تو کہنے لگے کہ وہ تو رگ دیکھتے ہیں نہ بیٹھا۔بے تحاشا مارتے جاتے ہیں۔یہ ہے تو قصہ مگر جس طرح اور قصوں کی ایک غرض ہوتی ہے اسی طرح اس کی بھی یہ