زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 144

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 144 جلد اول اور اس کے اوپر انسپکٹر کون ہے۔اور ان کے اخلاق اور معاملات کیسے ہیں۔(10) اس گاؤں میں اگر پولیس مین مقرر ہے تو وہ کون ہے اور اس کے اخلاق اور اس کا معاملہ کیسا ہے۔(11) اس کے پوسٹ آفس کا انچارج کون ہے اور چٹھی رساں کون ہے۔اور ان کا طریق اس تحریک شدھی میں کیسا ہے۔(12) ڈاک وہاں کتنی دفعہ دن یا ہفتہ میں آتی ہے۔(13) مدرس کون لوگ ہیں اور وہ اس تحریک میں کیا حصہ لیتے ہیں۔(14) ڈاکٹر کون ہے اور اس تحریک میں کیا حصہ لیتا ہے۔(15) اس میں کوئی مسجد ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو امام ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو اس سے کوئی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ (10) حلقہ کا افسر ڈپٹی کمشنر سے تحصیل کا انچارج تحصیلدار سے، تھانہ کا انچارج تھانہ دار سے ملنے کی کوشش کرے اور بغیر اپنے کام کی تفصیل بتائے اس کی دوستی اور ہمدردی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔مذکورہ بالا دوسرے لوگوں سے بھی اپنے تعلقات اچھے بنانے کی کوشش کرے۔یاد رکھنا چاہئے کہ جس قدر نقصان یا فائدہ چھوٹے لوگوں سے جیسے پولیس مین، چٹھی رساں وغیرہ سے پہنچ سکتا ہے اس قدر بڑے لوگوں سے نہیں پہنچ سکتا۔(11) جس گاؤں میں جائے اس کے مالک اور نمبردار اور پٹواری کا پتہ لے۔اگر وہ مسلمان ہوں تو ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور ان سے مدد کی درخواست کرے۔مگر یہ بات صاف صاف کہہ دے کہ مدد سے مراد میری چندہ نہیں بلکہ اخلاقی اور مشورہ کی مدد ہے تا کہ وہ پہلے ہی ڈر نہ جائے۔اگر کوئی شخص مالی مدد دینا بھی چاہے تو شروع میں مدد لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیں کہ ابھی آپ مجھ سے اور ہمارے کام سے واقف نہیں۔جب واقف ہو کر اسے مفید سمجھیں گے اور ہم لوگوں کو دیانتدار پاویں گے تب جو مدد اس کام کے لئے آپ دیں گے اسے ہم خوشی سے قبول کر لیں گے۔اگر وہ غیر مسلم ہوں تب بھی ان سے تعلقات دنیا وی پیدا کی