زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 145
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 145 کرنے کی کوشش کرے کہ میل ملاقات کا بھی ایک لحاظ ہوتا ہے۔جلد اول (12) کوئی مالی مدد دے تو اسے اپنی ذات پر نہ خرچ کرے بلکہ اس کی رسید با قاعدہ دے اور پھر اصل رسید مرکزی حلقہ سے لا کر دے تا لوگوں پر انتظام کی خوبی اور کارکنوں کی دیانتداری کا اثر ہو۔(13) سادہ زندگی بسر کرے اور اگر کوئی دعوت کرے تو شرم اور حیا سے کھانا کھا دے۔کوئی چیز خود نہ مانگے اور جہاں تک ہو سکے دعوت کرنے والوں کو تکلف سے منع کرے اور سمجھا دے کہ میری اصل دعوت تو میرے کام میں مدد کرنا ہے۔مگر مستقل طور پر کسی کے ہاں بلا قیمت ادا کرنے کے نہ کھاوے۔(14) دورہ کرتے وقت جو جو لوگ اسے شریف نظر آویں اور جن سے اس کے کام میں کوئی مددل سکتی ہے ان کا نام اور پتہ احتیاط سے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کرے تا بعد میں آنے والے مبلغوں کے لئے آسانی پیدا ہو۔(15) جن لوگوں سے اسے واسطہ پڑتا ہے خصوصاً افسروں ، بڑے زمینداروں یا اور دلچسپی لینے والوں کے متعلق غور کرے کہ ان سے کام لینے کا کیا ڈھب ہے۔اور خصوصیت سے اس امر کو اپنی پاکٹ بک میں نوٹ کرے کہ کس کس میں کون کون سے جذبات زیادہ پائے جاتے ہیں جن کے ابھارنے سے وہ کام کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔(16) جن لوگوں سے کام لیتا ہے ان میں سے دو ایسے شخصوں کو کبھی جمع نہ ہونے دو جن میں آپس میں نقار ہو۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہاں کے لوگوں سے ہوشیاری سے دریافت کر لو کہ ان معززین کی آپس میں مخالفت تو نہیں؟ اگر ہے تو کس کس سے ہے؟ جن دو آدمیوں میں مقابلہ اور نقار ہو ان کو اپنے کام کے لئے کبھی جمع نہ کرو۔بلکہ ان سے الگ الگ کام لو۔اور کبھی ان کو محسوس نہ ہونے دو کہ تم ایک سے دوسرے کی نسبت زیادہ تعلق رکھتے ہو۔تمہاری نظر میں وہ سب برابر ہونے چاہئیں۔اور کوشش کرو کہ جس طرح ہو سکے ان کا نقار دور کر کے ان کو کلمہ واحد پر