زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 116
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) جاتا ہے۔116 جلد اول تبلیغ کے دو پہلو یاد رکھیں کہ تبلیغ کے دو پہلو ہوتے ہیں اپنوں کے لئے اور غیروں کے لئے۔جب تک ان دو پہلوؤں کو آپ نہ سمجھیں گے آپ کا کام مکمل نہ ہو گا۔اس وقت تک جو مبلغ گئے ہیں انہوں نے اس پہلو کو سمجھا ہے جو غیروں کے لئے ہے اور اس کو نظر انداز کر دیا ہے جو اپنوں کے لئے ہے۔بے شک اگر ان لوگوں کے سامنے جو ابھی اسلام کو جھوٹا سمجھتے ہیں ہم اس امر پر زور دیں کہ اسلام کے سب حکموں کو ماننا چاہئے تو ضرور ہے کہ ان کے دل پر یہ اثر پڑے کہ ہم ان کو مسیحیوں کی مانند ہر ایک بات کو بلا ثبوت ماننے کی تعلیم دیتے ہیں لیکن اگر ہم ان لوگوں کے سامنے جو اسلام کو سچا تسلیم کر چکے ہیں اس امر پر بار بار اور موثر طریق سے زور نہیں دیتے کہ وہ کلام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو جائے اس کے احکام اور اس کی جزئیات پر اسی قدر احتیاط سے عمل کرنا ضروری ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس قدر کہ ایک ڈاکٹر کی ہدایات پر تو وہ عمل میں کمزور رہ جائیں گے۔جو لوگ بچوں کو اس وجہ سے تعلیم نہیں دیتے کہ ابھی یہ بچہ ہے ان کے بچے نہایت بد اخلاق ہوتے ہیں۔صرف انہیں کے بچے اخلاق فاضلہ کو حاصل کرتے ہیں جو استقلال اور اصرار سے گو حکمت عملی اور محبت سے بچوں کو اخلاق فاضلہ کے حصول کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔جس طرح انسانی زندگی کا بہترین حصول علم کا وقت بچپن ہے اسی طرح ایک نو مسلم کی زندگی میں تغیر پیدا کرنے کا بہترین وقت اس کے اسلام لانے کے قریب کا زمانہ ہے۔جس طرح بڑے ہو کر بچہ کے سیکھنے کا وقت نکل جاتا ہے اسی طرح کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد نو مسلم کے اندر تغیر پیدا کرنے کی قابلیت کمزور ہو جاتی ہے۔اس کا تازہ جوش سرد پڑ جاتا ہے اور ٹھنڈے لو ہے کو کوٹنے سے کچھ نہیں بنتا۔پس ایک جلسہ خاص نو مسلموں کے لئے کر کے اس میں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی طرف توجہ دلانی چاہئے اور ایک جلسہ عام تبلیغ کا ہونا چاہئے جس میں عام وعظ ہو۔