زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 110
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 110 جلد اول ماسٹر محمد دین صاحب نے جو خیالات ظاہر کئے ہیں وہ دونوں ایڈریسوں سے اعلیٰ ہیں۔وہ قلبی جذبات کا فوٹو اور اساتذہ اور طلباء کے لئے سبق آموز ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو کچھ انہوں نے کہا انکسار کے ساتھ کہا کیونکہ سچا مومن جب بھی ایک کام کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے گا تو یہی خیالات اس کے ہوں گے اور سچے دل سے یہی آواز اس کے منہ سے نکلے گی۔من نه کردم شما حذر بکنید دیکھو حضرت عمر جیسا انسان جس نے دنیا کو ہلا دیا اور یورپ کے مصنفین نادانی سے صلى الله ان کے کارناموں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ عمر محمد (ع) سے بھی بڑا انسان تھا اور ظاہری حالات ہی ایسے تھے کہ دنیا یہی سمجھتی لیکن دنیا یہ کیوں بھول گئی کہ یہی شخص کئی سال رسول کریم کی مخالفت کر کے تو اپنا کچھ بھی اثر اور رسوخ نہ پیدا کر سکا۔ہاں جب آپ کی غلامی میں آیا تو یہی عمر جو پہلے اونٹوں کے لالچ میں بے گناہ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا جب محمد کی غلامی میں آیا تو اس نے دنیا کو ہلا دیا۔بہر حال ان کی فتوحات کو دیکھ کر یورپین مصنف یہ کہتے ہیں کہ عمرمحمد (ﷺ) سے بھی بڑا تھا۔مگر جب آپ فوت ہونے لگتے ہیں تو ان کی زبان سے یہی نکلتا ہے لَا عَلَيَّ وَلَا لِی - 1 میں کچھ مانگتا نہیں کہ میں نے یہ کام کیا یا وہ کیا اس کا مجھے بدلہ دیا جائے بلکہ میری یہی درخواست ہے کہ مجھ سے جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ معاف کی جائیں۔علوم تو سچا مومن اور ایماندار شخص یہی کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا اور نہ کر سکتا ہوں خدا کے فضل سے ہی ہوگا جو کچھ ہو گا اور سچے دل سے یہ کہتا ہے۔میرے نزدیک یہ کہنے کا ہر شخص کے لئے موقع آتا ہے مگر ہر شخص اس موقع سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھاتا جس طرح اٹھانا چاہئے اور ہر شخص اپنی طاقتوں کو پورے طور پر استعمال نہیں کرتا۔اگر سب انسان خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہر طاقت کو اسی طرح استعمال کریں جس طرح کرنا چاہئے اور اس میں کوئی کو تا ہی نہ ہونے دیں تو محمد اللہ ہی کیوں نہ بن جائیں۔مگر محمد اللہ جیسا کسی اور کا نہ بننا ہی