زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 111
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 111 جلد اول بتاتا ہے کہ سب خدا داد طاقتوں کا صحیح صحیح استعمال نہیں کیا جا تا اور اس کمال تک استعمال نہیں کیا جاتا کہ کوئی محمد بن سکے اسی وجہ سے تفاوت مدارج ہے۔لیکن باوجود اس کے ضرورت ہے اس بات کی کہ جب انسان کام سے فارغ ہو اور کام میں کامیابی نصیب ہو تو اس وقت بھی اس کے دل میں یہی جذبات ہوں جو کام کے ابتدا میں ہوتے ہیں۔یہی خیالات ہوں جو کامیابی سے پہلے ظاہر کئے جاتے ہیں۔کام شروع کرتے وقت تو اس قسم کے خیالات سب لوگوں میں ہوتے ہیں حتی کہ دہریہ بھی یہی کہتے ہیں ہم کمزور ہیں ہم سے یہ کام نہیں ہو سکے گا۔لیکن جب کام ختم ہو جائے اور پینشن کا زمانہ آ جائے اس وقت بھی یہی خیالات ہوں۔یہی جذبات ہوں، یہی احساسات ہوں تب خوشی کی بات ہے۔لیکن اگر اس وقت نہ ہوں اور اکثر لوگوں میں نہیں ہوتے تو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا کو دھوکا دینے کے لئے اور اپنے آپ کو بڑا بنانے کے لئے ابتدا میں ایسے خیالات ظاہر کئے گئے تھے۔یہی جذبات جو ماسٹر محمد دین صاحب نے ظاہر کئے ہیں انہی کو لے کر لوگ اٹھتے ہیں لیکن جب کام ختم کر لیتے ہیں تو اس وقت کہتے ہیں ہم نے یہ کیا اور ہم نے وہ کیا۔پہلے و خدا کو دھوکا دینے کے لئے عاجزانہ طور پر اس کے آگے گر کر کہتے ہیں ہم کچھ نہیں ہم بہت کمزور ہیں تو ہی کرے گا تو یہ کام ہو گا۔لیکن جب ان کے گرنے پر خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت آتی ہے اور اس کا فضل کام کر دیتا ہے تو کہتے ہیں ہم نے یہ کام کیا مگر قوم نے ہماری قدر نہ کی۔ہم نے یہ کام کیا مگر جماعت نے ہماری عزت نہ کی۔ہم نے دکھ اٹھا کر کامیابی 09۔حاصل کی لیکن اس کا بدلہ کچھ نہ ملا۔یہ خیال ایسے انسانوں کو ضائع اور برباد کر دیتے ہیں۔میں افسوس سے کہتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو کہنے کو تو کہتے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اللہ کے لئے کرتے ہیں اور جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہی فضل سے ہوتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اور جب آپ یہ کہتے ہیں تو واقعہ میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کے تذلیل کو دیکھ کر ان کی مدد اور نصرت کرتا ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ ان کے ذریعہ تغیر عظیم پیدا ہو جاتا ہے۔