زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 109

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 109 جلد اول ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ وہ دین اسلام کی خدمت کے لئے جارہا ہوتا ہے۔پھر جس کوئی پارٹی دی جاتی ہے اس کے خیالات اور جذبات کی مثال اس کی مانند نہیں ہوتی جو ہندوستان میں اپنی ملازمت کا زمانہ ختم کر کے انگلستان جارہا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے مجھے آپ لوگوں سے جدا ہونے کا بہت غم ہے حالانکہ اس کا دل اپنے وطن اور اپنے گھر جانے پر بہت خوش ہو رہا ہوتا ہے بلکہ یہاں تو وطن والا اپنے وطن کو چھوڑ کر تبلیغ کے لئے جارہا ہوتا ہے۔وہ کام ختم کر کے اپنے اہل کے پاس نہیں جارہا ہوتا بلکہ وہ اپنے اہل کو چھوڑ کر کام کرنے کے لئے غیر ملک میں جا رہا ہوتا ہے اس لئے اس کے دل میں سچے جذبات ہوتے ہیں اور ان کے ماتحت جو خیالات ظاہر کئے جاتے ہیں وہ اپنے اندر صداقت اور سچائی رکھتے ہیں۔جو ایڈریس طلباء اور اساتذہ کی طرف سے ماسٹر محمد دین صاحب کو دیئے گئے ہیں میں سمجھتا ہوں ان میں دلی خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے اور ان میں بہت اعلیٰ درجہ کے خیالات ظاہر کئے گئے ہیں۔خصوصاً اس میں جو عزیزی عبد السلام نے پڑھا ہے اس کا طرز بہت اعلیٰ ہے اور اس میں سچے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔البتہ ایک نقص مجھے نظر آیا اور وہ یہ کہ مضمون اور آواز میں مطابقت نہ تھی۔شاید خاندانی اثر کی وجہ سے آواز کی یہ حالت ہو۔مضمون کا طرز بیان تو وہ تھا جو ہمارے خاندان کا ہے کہ پُر جوش ہوتا ہے مگر لہجہ مولوی صاحب ( حضرت خلیفہ اول) کا تھا۔اور مولوی صاحب کہا کرتے تھے کہ ہمارے خاندان کے لوگوں کے اعصاب کمزور ہیں۔آواز کی نا مطابقت کی وجہ سے مضمون کے اثر میں کمی آجاتی ہے اس لئے عبد السلام کو کوشش کرنی چاہئے کہ یا تو لہجہ کو مضمون کے مطابق بنائے یا مضمون کو لہجہ کے مطابق۔مضمون اگر شان و شوکت والا ہو تو اس کو ایسی آواز سے نہیں پڑھنا چاہئے جس میں لجاجت پائی جائے بلکہ اس کا رنگ اور ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود اور حضرت مولوی صاحب کے طرز کلام میں چونکہ فرق تھا اس لئے مضمون بھی علیحدہ علیحدہ رنگ کے ہوتے تھے اور اپنے اپنے رنگ میں مؤثر ہوتے تھے۔