زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 102
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 102 جلد اول محمد ﷺ اس کے رسول ہیں اور اس کے بھیجے ہوئے ہیں۔جو تعلیم آپ لائے وہ اب ہمیشہ قائم رکھی جائے گی اور مٹائی نہیں جائے گی۔کیونکہ وہ مکمل ہے اور مکمل شے کو کوئی نہیں مٹاتا۔قیامت تک کوئی شخص قرآن کریم کی اطاعت کا جو ا اپنی گردن پر سے اتار کر پھینک نہیں سکتا خواہ اعلیٰ درجہ کا انسان ہو خواہ ادنی محمد رسول اللہ کی محبت سے انسان خدا تعالیٰ کا قرب پاتا ہے۔آپ سے تعلق اللہ تعالیٰ کے تعلق کے مضبوط کرنے کے ذرائع میں سے ایک اعلیٰ ذریعہ ہے۔کیونکہ جو آپ سے محبت رکھتا ہے وہ اس کلام سے بھی محبت رکھتا ہے جو آپ کے ذریعہ سے دنیا کو پہنچا۔سو آپ کی محبت پیدا کرو اور آپ کی اطاعت کی کوشش کرو۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - 1 حضرت مرزا غلام احمد صاحب رسول کریم اللہ کے نائب اور شاگرد ہیں اور آپ کی نیابت میں اور اطاعت میں آپ نے رسالت کا مرتبہ پایا ہے۔آپ مستقل رسول نہیں ہیں اور آپ کی رسالت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے جدا نہیں ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ رسول نہیں۔آپ فی الواقع رسول اور اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور جو ان کی نبوت اور رسالت کا انکار کرتا ہے ایک سخت گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔آپ کی محبت کے سوا اب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔صرف یہی کھڑ کی اب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کی کھلی ہے۔کیونکہ جو نائب کا انکار کرتا ہے وہ اصل کا انکار کرتا ہے۔اور جو اصل کا انکار کرتا ہے وہ اس کا انکار کرتا ہے جس نے اسے پیدا کیا۔خلافت کا سلسلہ ایک رحمت ہے۔اور خدا تعالیٰ کی رحمت کی ناشکری کرنی دکھ میں ڈالتی ہے۔انسان خواہ کس قدر بھی ترقی کر جائے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔پس خلافت سے مسلمان کسی وقت بھی مستغنی نہیں ہو سکتے۔نہ اب نہ آئندہ کسی زمانہ میں۔اللہ تعالیٰ کی بہت سی برکات اس سے متعلق اور وابستہ ہیں۔اور اُس سے جو خلافت سے دور ہو جاتا ہے دور ہو جاتا ہے اللہ اُس سے۔جو اُس سے تعلق کرتا ہے اپنا تعلق مضبوط کرتا ہے۔اس کے لئے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نیکی اور تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش