یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 95 of 137

یادوں کے نقوش — Page 95

“ 159 معاندین مخالفین نے دیکھا کہ حکیم صاحب ہمارے تمام حربے نا کام کئے جا رہے ہیں۔ہم انہیں جتنا دبانے کی کوشش کرتے ہیں یہ اتنا ہی اُبھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔تب انہوں نے حکیم صاحب کے خلاف بے بنیاد اور بے سروپا مقدمات کا سلسلہ شروع کر دیا۔تاہم پولیس پر آپ کا غیر معمولی نیک اثر تھا۔جتنے بھی مقدمات آپ پر قائم کئے گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو باعزت بری فرمایا۔آپ کو اسیر راہ مولی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔مورخہ 16 اگست 1994ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے ایم ٹی اے کے پروگرام میں محترم حکیم صاحب کے انتقال پر جو تفصیلی ذکر خیر فرمایا۔اس میں ان کے مقدمات کے بارے میں حضور نے یوں فرمایا۔وو۔۔۔۔مقدمات میں پڑ کر اور سنگین صورت حالات میں حضرت مولوی صاحب کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آجاتی تھیں۔محترم حکیم صاحب کے خلاف چند مقدمات کا ذکر پیش ہے۔(1) مورخہ 6 اپریل 1982ء کو آپ اور جماعت کے دیگر معززین کے خلاف مقدمہ نمبر 43 بجرم A-295 چاک ہوا۔جس میں جملہ معزز نامزد ملزمان 14اکتوبر 1989 ء کو ہائیکورٹ سے باعزت بری ہوئے۔(2) مورخہ 26 جون 1984ء کو مقدمہ نمبر 84/ 122 بجرم 148/149,307/323,342 تھا نہ ربوہ چاک ہوا۔جس میں مورخہ 27 جون 1984ء کو محترم حکیم صاحب کے علاوہ محترم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ مکرم خواجہ مجید احمد صاحب ، مکرم مبارک احمد سلیم صاحب اور مکرم وسیم احمد انور صاحب گرفتار ہوئے۔مذکورہ مقدمہ میں مکرم عبد العزیز صاحب بھامبڑی بھی 10 اگست 1984 ء کو گرفتار ہوئے۔مکرم وسیم احمد انور صاحب اور مکرم مبارک احمد سلیم صاحب کے خط کے “ 160 جواب میں مورخہ 10 راگست 1984ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے فرمایا۔آپ دونوں کا خط ملا اور اسیران احمدیت کی یاد میرے زخموں کو تازہ کر گئی دن میں کئی کئی بار اور رات کو تو اور بھی زیادہ ذہن مکرم باجوہ صاحب، حکیم خورشید احمد صاحب، خواجہ مجید احمد صاحب اور آپ دونوں کی طرف منتقل ہوتارہتا ہے۔اب تو سنا ہے کہ مولوی عبدالعزیز بھامبڑی صاحب بھی آپ سے آملے ہیں۔آج لکھو مہا مظلوم دوسرے انسانوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔بعض اذیتیں سہہ کر گمنامی کی حالت میں دم توڑ رہے ہیں۔بعض کے مقدر میں عمر بھر کی ہولناک قید تنہائی لکھ دی جاتی ہے لیکن کون ہے دنیا میں جو ان کے درد سے پر اس طرح تڑپے اور بے قرار ہو جس طرح آج آپ کیلئے لکھو مہا بندگان خدا بے قرار ہیں اور تڑپ رہے ہیں۔پھر یہ ایک دو نسل کی باتیں نہیں۔قیامت تک آپ کا نام آسمان احمدیت پر ستارے بن کر چمکتا رہے گا۔پیارے برادران باجوہ صاحب ، حکیم خورشید صاحب، خواجہ صاحب اور آپ دونوں کو میرا نہایت محبت بھر اسلام اور پیار اس وقت میرے تصور کی آنکھ بڑی محبت سے مگر سخت بے بسی کے حال میں آپ سب کو دیکھ رہی ہے۔خدا حافظ۔“ پہلے محترم حکیم صاحب محترم باجوہ صاحب محترم خواجہ صاحب کو تھانہ بھوانہ کی حوالات میں محبوس رکھا گیا۔تھانہ بھوانہ کے علاوہ ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔اس عرصہ میں نہ صرف سینکڑوں قیدی بلکہ جیل افسران بھی آپ کے مفت علاج سے شفایاب ہوئے بلکہ اس کار خیر کا نیک اثر رہائی کے بعد بھی محترم حکیم صاحب کی زندگی تک قائم رہا۔اور ان لوگوں کے محترم حکیم صاحب کے ساتھ روابط سرسبز و شاداب رہے۔محترم حکیم صاحب کے پولیس میں نیک اثر اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی