یادوں کے نقوش — Page 96
161 بیگناہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک روز ایک سینئر پولیس افسر خود تھا نہ بھوانہ تشریف لائے۔اور محترم حکیم صاحب سے ہمدردانہ آواز میں یوں مخاطب ہوئے حکیم صاحب مجھے آپ کی بے گناہی کا مکمل یقین ہے لیکن یہ پر چہ حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے۔جس میں میں بے بس ہوں۔اس کے ساتھ ہی قریب کھڑے ایس ایچ او سعید اختر تتلہ صاحب کو حکم دیا کہ یہ میرے ذاتی مہمان ہیں انہیں ہر قسم کی سہولت مہیا کی جائے۔19 جولائی 1984ء کو معاندین کی کوشش کے نتیجہ میں مذکورہ مقدمہ ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو بھجوایا گیا لیکن مارشل لاء انتظامیہ نے اسے ناقابل سماعت قرار دے کر واپس بھجوا دیا۔مورخہ 3 ستمبر 1984ء آپ اور آپ کے معزز رفقاء ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوئے۔اس طرح آپ نے دو ماہ سے زائد عرصہ قید و بند میں گزار کر اسیر راہ مولی کا اعزاز پایا۔مذکورہ مقدمہ کے ملزمان کو 10 فروری 1991ء کو بعدالت مجسٹریٹ دفعہ 30 سرگودھا نے باعزت بری کر دیا۔(3) آپ کے خلاف تیسرا مقدمہ نمبر 144 مورخہ 22 مئی 1989ء بجرم C/298 چاک ہوا۔اس مقدمہ میں آپ کے علاوہ مکرم قاضی منیر احمد صاحب، مکرم چوہدری رشید احمد صاحب ( معاون ناظر امور عامہ ) اور مکرم چوہدری مبارک احمد طاہر صاحب کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔جو کافی عرصہ زیر کارروائی رہا۔محترم حکیم صاحب کے خلاف دوران صدارت 4 مقدمات بنائے گئے۔مخالفین کی طرف سے مقدمات کا اندراج اور قید و بند آپ کے پائے استقلال میں رائی برابر بھی کمی نہ کر سکے۔یہ امر قابل ذکر ہے۔مذکورہ چاروں مقدمات میں محترم صدر صاحب عمومی کے ساتھ جماعت کے انتہائی قابل احترام بزرگ بھی شامل تھے۔محترم حکیم صاحب کے علاوہ دو صدران عمومی نے بھی اسیران راہ مولیٰ کا اعزاز پایا۔جس میں مکرم “ 162 چوہدری بشیر احمد خان صاحب جو 11 جون 1974ء کو گرفتار ہوئے۔دوسرے مکرم و محترم کرنل ایاز محمود خان صاحب تھے۔آپ کو 30 اپریل 1999 ء کو گرفتار کیا گیا اور آپ کی ضمانت 10 مئی 1999ء ایس ایچ او چناب نگر نے آرایم چناب نگر کو درخواست بمراد ڈسچار جنگی چار کس ملزمان دی۔جس میں B-295 حذف کر کے دفعہ MPO-16 لگا دی۔آرایم چناب نگر نے مذکورہ بالا درخواست کی بنیاد پر ملزمان کو بری کر کے ڈسٹرکٹ جیل جھنگ سے رہا کر دیا۔مکرم محترم کرنل (ر) ایاز محمود خان صاحب خوش قسمت ہیں جنہیں حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہمراہ اسیر راہ مولیٰ کی سعادت ملی۔وسعت علمی بقا کی منزلیں ہیں یہ اسیران رہ مولا دعا کی رفعتیں ہیں یہ اسیران رہ مولا مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب گورداسپوری لکھتے ہیں :۔د مکرم و محترم مولانا خورشید احمد صاحب ہمارے حدیث کے استاد مقرر ہوئے۔آپ نے جس محنت لگن اور محبت کے ساتھ یہ مضمون پڑھایا وہ قابل داد ہے۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کو علوم حدیث پر خوب عبور حاصل ہے۔روایت در روایت کے اصول۔مختلف احادیث میں باہمی تطبیق اور ان کے حل کے طریق۔اسماء الرجال اور جرح و تعدیل وغیرہ علوم پر گھر سے با قاعدہ نوٹس تیار کر کے لاتے اور طلباء کو لکھواتے۔جواب تک میرے پاس موجود ہیں۔اور حدیث کے مالا وما علیہ پر خوب روشنی ڈالتے۔جس سے حدیث کا مفہوم اچھی طرح سمجھ آ جاتا۔میں جب 1984 ء میں آخری بار سیرالیون سے واپس آیا۔تو آر