یادوں کے نقوش — Page 94
157 آتے ہی معاندین سلسلہ کے منفی عزائم کی تفصیلات کی ایک رپورٹ خاکسار ( ناصر ظفر) نے 22 اگست 1983ء مکرم صدر صاحب عمومی کی وساطت سے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی خدمت میں بھجوائی۔مکرم صدر صاحب عمومی نے رپورٹ پڑھ کر یہ نوٹ لکھا۔سیدی ! "محترم ناصر ظفر صاحب نے حالات کی رپورٹ لکھی ہے جو بالکل ٹھیک ہے خاکسار خود حضور کی خدمت میں لکھنا چاہتا تھا۔اس رپورٹ پر حضور کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔حضور کا ادنی غلام صدر عمومی لوکل انجمن احمد یہ حضور کی بلد یہ ربوہ کے انتخاب سے دلچسپی اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نے اس پر ایک انتہائی اعلیٰ سطح کی کمیٹی نامزد فرمائی۔جس میں مکرم و محترم امیر صاحب مقامی محترم ناظر صاحب امور عامه، محترم صدر صاحب عمومی کے ساتھ خاکسار ناصر ظفر کو بھی اس کمیٹی میں شامل فرمایا۔اس کے ساتھ ہی انتخابی حلقوں انتخابی فہرستوں میں دھاندلی ، قانونی بے ضابطگیوں کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کرنے کی ہدایت فرمائی۔عدالتی امور کی تکمیل ونگرانی کیلئے مکرم بریگیڈئیر (ر) وقیع الزمان صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے) کو نامزدفرمایا۔چنانچہ محترم صدر صاحب عمومی اور خاکسار محترم بریگیڈئیر صاحب سے لاہور جا کر ملے۔بریگیڈئیر صاحب کی مشاورت اور راہنمائی میں متنازعہ معاملات کو متعلقہ عدالت میں چیلنج کیا گیا۔اگر چہ وقت کی کمی کے باعث عدالت سے کماحقہ نتائج تو برآمد نہ ہو سکے البتہ ہماری اس جماعتی کاوش کے نتیجہ میں معاندین جماعت کے منفی عزائم ناکام رہے۔اس طرح حکیم خورشید احمد صاحب کے وقت میں ہونے والے تیسرے بلدیاتی انتخاب 1987ء میں ہوئے اور پھر چوتھے بلدیاتی انتخاب 1991ء میں ہوئے۔1991ء میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ میں علیاء کمیٹی کے ایک اجلاس ے حضور اُس وقت مشرق بعید کے دورہ پر تھے۔“ 158 میں تین افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جس میں (1) مکرم حکیم خورشید احمد صاحب (2) مکرم شاہد احمد سعدی صاحب (3) اور خاکسار ( ناصر احمد ظفر ) شامل تھے۔اس کام کی تکمیل کیلئے چھ افراد پرمشتمل معاونین کی ایک کمیٹی بھی مقرر کی گئی۔اس کی ہفتہ وادر پورٹ مکرم محترم ناظر صاحب اعلی صدر علیاء کمیٹی کو مورخہ 5 را کتوبر 1991ء کو محترم حکیم صاحب نے بھجوائی۔ان چاروں انتخابات میں لوکل انجمن احمدیہ کی موثر اور مربوط حکمت عملی کے باعث لوکل انجمن احمدیہ کے حمایت یافتہ امیدوار کافی حد تک کامیاب ہوئے۔حکیم صاحب اگر چه درویش صفت اور بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے جن کا سیاست اور سیاسی داؤ پیچ سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔لیکن آپ کی صاف گوئی دعا تو کل اور یقین کے ساتھ معتدل پالیسی کے باعث اللہ تعالیٰ ان کے فیصلوں میں برکت عطا فرماتا رہا۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔”میں تاں کرداں کولیاں رب کردائے سولیاں“ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ ہر معاملہ میں مرکز سلسلہ سے عملی مشاورت کو یقینی بناتے تھے۔مورخہ 30 جنوری 1992ء کومحترم صدر صاحب عمومی نے بلدیاتی انتخابات 28 دسمبر 1991ء کی ایک تفصیلی رپورٹ حضور اقدس کو لکھی اس پر حضور نے حوصلہ افزاء دعائیہ جواب سے نوازا۔(الحمد للہ علی ذالک) مقدمات بلندی پر کھڑے ہیں یہ اسیران رہ مولا اور قامت میں بڑے ہیں یہ اسیران رہ مولا معاندین کی طرف سے جماعت پر یا کسی فرد جماعت پر جب بھی مشکل آتی محترم حکیم صاحب مردانہ وار حکمت اور جرات سے اسے نا کام کر کے رکھ دیتے۔جب