یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 93 of 137

یادوں کے نقوش — Page 93

“ 155 جداگانہ طرز انتخاب اور احمدیوں کے ووٹوں کا بوگس اندراج جماعت احمد یہ بفضل اللہ تعالیٰ مذہبی جماعت ہے۔دنیاوی لالچ عہدے اور ممبریاں وزارتوں وغیرہ کی مخلصین جماعت کی نگاہ میں پر کاہ کی بھی اہمیت نہیں اور بقول بانی سلسلہ عالیہ مُجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار جداگانہ طرز انتخاب کے تحت غیرت مند مخلص احمدی بھائیوں کے سامنے حضرت خاتم الانبیاء کے قدموں سے جدائی کے عوض بڑے سے بڑا سیاسی منصب پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔نظام جماعت کو جب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ رجوعہ چنیوٹ شہر اور تحصیل کے مختلف دیہات میں کسی نے احمدی احباب کے نام غیر مسلموں کی فہرست میں درج کروائے ہیں اور جب اس امر کی باقاعدہ تحقیق کی گئی تو مذکورہ اطلاع درست ثابت ہوئی۔ووٹوں کے اخراج کی ذمہ داری محترم صدر صاحب عمومی کو سونپی گئی کہ فوری جائزہ لیں کہ متعلقہ مقامات پر فی الواقع احمدی گھرانے رہائش پذیر ہیں اور یہ کہ ووٹوں کا اندراج انہوں نے از خود کروایا ہے یا کسی خفیہ ہاتھ کی کارستانی ہے۔بصورت دیگر ایسے جعلی ووٹوں کو حرف غلط کی طرح انتخابی فہرست سے باضابطہ خارج کروایا جائے جو مجموعی طور پر جماعت کے اصولی اور بنیادی مؤقف کے صریحاً خلاف بلکہ متصادم ہے۔محترم صدر صاحب عمومی نے ایسے ووٹوں کے اخراج کی ڈیوٹی خاکسار سیکرٹری امور عامہ کے ذمہ لگائی۔محترم سیال صاحب آرایم ربوہ جو اسسٹنٹ رجسٹریشن آفیسر بھی تھے۔ان کے ہمراہ تحصیل چنیوٹ کے سات آٹھ دیہات میں جا 156 کر تفصیلی جائزہ لینے اور وہاں کے معززین کی اس تصدیق پر کہ ہمارے دیہات میں کوئی احمدی نہ ہے، اس طرح بفضل اللہ تعالیٰ صدر صاحب عمومی کی بروقت توجہ اور نگرانی سے بوگس ووٹوں کے اخراج کا کام اختتام پذیر ہوا۔مذکورہ کام کی بطریق احسن تکمیل کے بعد محترم صدر صاحب عمومی نے حضور کو ایک تفصیلی رپورٹ بغرض دعا لکھی۔اس پر حضور نے حوصلہ افزا دعائیہ جواب سے نوازا۔الحمد للہ علی ذالک جدا گانہ طرز انتخاب کے نتائج جداگانہ طرز انتخاب کے تحت پہلی مرتبہ وطن عزیز میں بلدیاتی انتخابات 1979-80ء میں ہوئے مذکورہ انتخاب میں قلت وقت کے باعث کما حقہ کا رروائی تو نہ ہو سکی لیکن محدود وقت میں جس مستعدی اور سبک رفتاری سے خدا تعالیٰ نے لوکل انجمن احمدیہ کو مثبت نتائج حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی اس کے نتیجہ میں چیئر مین اور وائس چیئر مین بلد یہ سمیت وہ تمام کونسلر حضرات بھی جو جماعت کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے تھے۔بفضل اللہ تعالیٰ لوکل انجمن احمدیہ کی مناسب حکمت عملی کے باعث کامیاب ہوئے۔یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لوکل انجمن احمدیہ کی اس کامیاب حکمت عملی اور معتدل روابط کے باعث امیدواروں کے دونوں متحارب دھڑے انتخاب سے قبل اور بعد میں بھی اپنی اپنی کامیابی کا راز لوکل انجمن احمدیہ کی حمایت اور نظام سلسلہ کے ساتھ وابستگی میں ہی خیال کرتے تھے۔دوسرا بلدیاتی انتخاب 1983ء 1983ء میں دوسرے جدا گانہ طرز انتخاب کا اعلان ہو چکا تھا ، سابقہ تجربات کے پیش نظر بلدیہ ربوہ کی حلقہ بندیوں اور فہرست ووٹران کی ابتدائی اشاعت سامنے