یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 83 of 137

یادوں کے نقوش — Page 83

اعلیٰ اخلاق 135 محترم حکیم صاحب انتہائی ملنسار ، فیاض اور مہمان نواز تھے جماعتی و دینی کاموں میں ذاتی گرہ سے بے دریغ خرچ کرنے والے وجود تھے اور بعض دفعہ تو آپ کا یہ جذبہ عروج پر پہنچ جاتا تھا۔جماعتی کاموں میں دفتری گاڑی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی گاڑی بھی ہمیشہ وقف رکھتے تھے۔جبکہ خدمات بھی اعزازی کرتے تھے۔مظلوموں کی امداد محترم حکیم صاحب کا معمول تھا کہ مخلص ، مفلس اور مظلوم بھائیوں کی ظالم افراد کے مقابلہ میں ڈٹ کر امداد اور حمایت فرماتے۔مقابلہ میں خواہ کوئی کتنا ہی دنیاوی لحاظ سے مضبوط اور حسب و نسب ، سیاسی و سماجی اعتبار سے بااثر ہی کیوں نہ ہوتا۔فریقین کی موجودگی میں آپ قولِ سدید سے کام لیتے ہوئے حقائق کے مطابق کھری کھری سنانے سے قطعی دریغ نہ کرتے اور نہ جھجکتے۔ڈنکے کی چوٹ پر حق بات کہہ کر مظلوم کا ساتھ دیتے۔اس سلسلہ میں بعد از اجازت نظارت امور عامه خواہ پولیس حتی کہ عدالت تک بھی جانا پڑتا تو آپ بلا جھجک مظلوم کے ہمراہ جا کر ظالم کا سامنا کرتے۔آپ اس وقت تک مظلوم کی امداد سے دستبردار نہ ہوتے جب تک ظالم ظلم سے دست کش ہو کر مظلوم کی حق رسی پر مجبور نہ ہوتا۔آپ کے دور صدارت لوکل انجمن احمدیہ کے دوران ایسی بیسیوں مثالیں اور واقعات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ایک مرتبہ ایک کیس میں آپ نے ایک عام مظلوم بھائی کی حق رسی کے سلسہ میں سیشن کورٹ میں ظالم فریق کے مخالف اصالتاً پیش ہوئے اور حقائق کے مطابق بیان دے کر اس کی مقدمہ سے جان چھڑوائی۔“ 136 حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے آپ کی وفات پر آپ کی انہی خوبیوں کے پیش نظر فرمایا تھا کہ وو ایسے مشکل مواقع پر ربوہ کے عوام کی سر پرستی کرنے میں حضرت مولوی 66 صاحب کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔(روزنامه الفضل 18 /اگست 1994ء) آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی آپ بے کسوں، غریبوں، ضرورت مندوں اور یتیموں سے بہت ہمدردی رکھتے تھے۔ایک مرتبہ احمدنگر کی بیوہ خاتون جو ہر لحاظ سے بیکس اور مفلس تھی آپ کے پاس آئی۔جب آپ کو اس خاتون کی حالت زار کا علم ہوا تو اس کی رہائش سمیت جملہ ضروریات فوری طور پر پوری کرا دیں اور بعد میں بیوت الحمد میں کوارٹر کا انتظام بھی کرا دیا۔رفقاء کار سے شفقت آپ اپنے رفقاء کار اور ماتحتوں سے غیر معمولی شفقت اور ہمدردی کا نہ صرف زبانی اظہار فرماتے بلکہ عملاً ہمدردی اور تعاون کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔اس سلسلہ میں بیشمار واقعات قابل ذکر ہیں۔لیکن خوف طوالت کے پیش نظر صرف چند واقعات پر اکتفا کرتا ہوں۔مکرم ماسٹر محمد حسین صاحب صدر محله ناصر آباد شرقی نے بتایا کہ ایک دفعہ ان کے بھتیجے کو باؤلے کتے نے کاٹ لیا۔ماسٹر صاحب بچے کو ساتھ لے کر پریشانی کے عالم میں محترم حکیم صاحب کے پاس گئے اور مذکورہ تکلیف دہ صورتحال کا ذکر کیا تو انہوں نے فوراً اپنے ڈرائیور مکرم فرزند صاحب ( اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے) کو حکم دیا کہ اس بچے کو میری ذاتی کار میں فوراً ٹیکے لگوانے کیلئے چنیوٹ لے جائیں