یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 84 of 137

یادوں کے نقوش — Page 84

“ 137 اور ساتھ ہی کچھ پیسے بھی دیئے اور فرمایا خواہ فیصل آباد یالا ہور جانا پڑے جائیں اور ماسٹر صاحب کا کسی قسم کا خرچ نہیں کروانا۔اور واپسی پر مجھے اطلاع دیں۔چنانچہ چنیوٹ سے ہی ٹیکوں کی سہولت میسر آ گئی واپسی پر رپورٹ عرض کی تو اطمینان بھرے لہجے میں فرمایا۔الحمد للہ خاکسار نے اپنی آنکھوں میں لینز Lens ڈلوایا لیکن بینائی پر درست اثر نہ پڑا۔مختلف ڈاکٹروں سے بھی چیک کرایا لیکن امید کی کرن دکھائی نہ دی۔محترم حکیم صاحب اس دوران مسلسل دریافت فرماتے رہے۔ایک روز آپ اپنے گھر دارالصدر سے خاکسار کے گھر تشریف لائے اور آنکھ کی صورتحال پر ڈسکس (discuss) کرنے کے بعد فرمایا کل صبح آپ تیار ہو جائیں میں آپ کی آنکھ کا معائنہ لا ہور کی ایک معروف لیڈی ڈاکٹر سے کروانا چاہتا ہوں۔خاکسار نے محترم حکیم صاحب کی غیر معمولی مصروفیت کے پیش نظر قدرے پس و پیش کا اظہار کیا۔ویسے بھی محترم صدر صاحب عمومی کو تکلیف دینے اور ان کا قیمتی وقت لینے میں شرح صدر بھی نہ تھی لیکن انہوں نے خاکسار کی بات نہ مانی اور اگلی صبح وقت مقررہ پر اپنی کار میں مجھے لاہور لے گئے اور چیک کروایا۔باوجود خواہش اور کوشش کے خاکسار کو کسی قسم کا خرچ نہ کرنے دیا۔دوسرا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ سردیوں کے موسم میں جبکہ دھند کا راج تھا۔راقم الحروف کو جماعتی کام کے سلسلہ میں چنیوٹ جا نا پڑا واپس آ کر جب صدر صاحب عمومی کو کام کے بارہ میں رپورٹ دی تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کو لقوہ ہو گیا ہے بعد میں ڈاکٹروں نے بھی اس کی تصدیق کی تو فرمانے لگے یہ ٹیکے لیں جو اسی مقصد کیلئے میں نے انڈیا سے منگوائے تھے۔فوراً لگوائیں۔وہ میں نے فوراً لگوائے اس سے مرض جاتا رہا۔آپ کی یہ محبت و شفقت مجھے تازیست یادر ہے گی۔انشاء اللہ “ 138 موسم سرما کی ایک خوبصورت شام کے وقت ہم چند ممبران مجلس عاملہ دفتر صدر عمومی میں مصروف کار تھے کہ اچانک محترم حکیم صاحب اپنے کندھے پر نئی سلی ہوئی اچکن ڈالے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ اچکن ابھی میں درزی کی دکان سے سلوا کر لایا ہوں جو مجھے ذرا تنگ ہے۔مکرم ماسٹر مجید صاحب سابق صدر دارالعلوم شرقی کو فرمایا کہ آپ یہ اچکن پہن کر دکھا ئیں۔اس پر محترم ماسٹر صاحب نے اچکن پہنی تو محترم حکیم صاحب نے فرمایا ما شاء اللہ یہ تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ناپ پر ہی سلی ہوئی ہے۔آپ کو تو بہت ہی اچھی لگ رہی ہے۔یہ میری طرف سے آپ کیلئے تحفہ ہے۔خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو ہو گئیں سرکاری انتظامیہ کے افراد سے شفقت کا تعلق اکثر پولیس آفیسر اور جوان آپ کو اپنے بزرگوں کا رتبہ دیتے تھے۔کبھی کبھار اگر آپ تھا نہ چلے جاتے تو ملازمین اور افسران بھاگم بھاگ آپ سے آ کر ملتے۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ پولیس کو کوئی غلط کام نہیں کہتے تھے۔اگر کسی احمدی نے کوئی غلط کام کیا ہوتا تو آپ قولِ سدید سے کام لیتے ہوئے اس کی غلطی کا اعتراف کرتے اور کبھی غلط سفارش نہ کرتے۔صدر صاحب عمومی کی صاف گوئی پر پولیس از خود ایسے معاملات منصفانہ انداز میں نپٹا دیتی۔یہ خوشگوار تعلقات دونوں اطراف سے جاری ساری رہتے۔آپ بھی پولیس کی جائز ضروریات کا خیال فرماتے۔ایک دفعہ مقامی S۔H۔O صاحب صدر صاحب عمومی کے مطب میں تشریف لائے۔عمر کے لحاظ سے قدرے بڑے بھی تھے اور مکرم صدر صاحب عمومی کے گرویدہ بھی۔جماعت کے ساتھ اپنے حسنِ اخلاق کے باعث تقریباً تین ، چار دفعہ ربوہ تھانہ