یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 82 of 137

یادوں کے نقوش — Page 82

“ جامعہ احمدیہ میں ایک دلچسپ تقریری مقابلہ 133 نظارت تعلیم و تربیت کی تجویز پر مورخہ 21 دسمبر 1948 ء بوقت دس بجے طلباء جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کا ایک تقریری انعامی مقابلہ ہوا۔جس کا مضمون یہ تھا کہ حکومت پاکستان کو شرعی قانون فوراً نافذ کر دینا چاہئے۔طرفین نے مثبت اور منفی پہلوؤں کے متعلق بہت مفید تقاریر کیں۔ہر فریق کے تین مقرر تھے۔طلبہ کے بعد اساتذہ جامعہ و مدرسہ نے اسی موضوع کے دونوں پہلوؤں کے متعلق عربی زبان اور انگریزی زبان میں تقریریں کیں۔اس تقریری مقابلہ میں عربی حصہ میں جوں کے فیصلہ کے مطابق مکرم مولوی ظفر محمد ظفر صاحب اول رہے اور مکرم مولوی خورشید احمد شاد صاحب دوم اور مکرم مولوی غلام احمد صاحب فاضل بدوملہوی سوم رہے۔علم حدیث میں تخصص (خلاصہ رپورٹ روزنامہ الفضل 29 دسمبر 1948ء) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ بعض ذہین طلباء جامعہ حمد ی کوتعلیم سے فارغ ہونے پر ان کو مختلف علوم مثلاً، تفسیر ، فقہ، حدیث ، علم کلام اور مواز نہ وغیرہ میں تخصص کیلئے نامزد فرمایا کرتے تھے ان خوش قسمت طلباء میں سے مکرم خورشید احمد شاد صاحب بھی ہیں جنہیں حضور نے علم حدیث میں تخصص کے لئے دہلی بھجوا دیا۔جہاں آپ نے دیو بند وغیرہ میں چوٹی کے علماء سے مزید علم حدیث حاصل کیا۔آپ کی اور ! ذہانت اور علم کی وجہ سے آپ کے اساتذہ نے انہیں اپنے پاس ہی رہنے کو کہا لیکن یہ جماعت کا دیرینہ خادم وہاں کیسے رہ سکتا تھا۔اپنا مقصد پورا ہونے پر آپ واپس تشریف لے آئے۔آپ نے اس شعبہ میں بہت ترقی کی اور مطالعہ کے ذریعہ کمال “ 134 حاصل کیا۔آپ کا درس حدیث بہت سے علمی نکات پر مشتمل ہوتا ، احباب محو ہو کے سنتے۔آپ کی وفات کے بعد کئی دوستوں نے آپ کے درس حدیث کو سراہا اور تعریف کی۔آپ کے ایک شاگرد مکرم بشیر احمد خان صاحب آپ کی وفات پر تعزیت کیلئے دفتر تشریف لائے۔جہاں خاکسار ڈیوٹی پر موجود تھا۔مکرم حکیم صاحب کا ذکر خیر کرتے کرتے جب آپ نے علم حدیث کا ذکر شروع کیا تو رکنے میں نہیں آتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1943 ء میں مولوی فاضل کے امتحان میں جامعہ احمدیہ کی طرف سے شامل ہونے والے امیدوار مولوی خورشید احمد صاحب شاد پنجاب یونیورسٹی میں 488 نمبر لے کر اول رہے۔جامعہ احمدیہ کی طرف سے دس طالب علم امتحان میں شریک ہوئے تھے۔(خلاصہ رپورٹ روز نامہ الفضل 12 راگست 1943ء) تبویب مسند احمد بن حنبل آپ کے شاگر دمحمد ارشاد خان صاحب نے بتایا کہ امام جماعت احمد یہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے سب سے اہم اور سب سے وقیع ذمہ داری انہیں تبویب مسند احمد بن حنبل کی تفویض کی ، خدا تعالیٰ کا کرم ان پر اتنا بے کراں اور بے پایاں تھا کہ اس تاریخی اور بے مثال اور غیر معمولی ذمہ داری کو ادا کرنے میں سرخرو ہو گئے۔مزید بتایا کہ شاہد کے تحقیقی مقالے میں میں نے مسند احمد بن حنبل کی تبویب پر خصوصی توجہ کی تو یہ حیرت انگیز اتفاق یا الہی مصلحت یا کوئی غیبی حقیقت سامنے آئی کہ خود حضرت امام احمد بن حنبل سے لے کر مولوی خورشید احمد صاحب شاد تک جس کسی نے کسی بھی جگہ کسی بھی دور میں تبویب مسند احمد بن حنبل کی کوشش کی ، اس پر قید و بند قتل وغارت زوال و اضمحلال کے دردناک ابتلاء آئے۔غالباً شاید اسی وجہ سے مکرم صدر صاحب عمومی کے اوپر چار مقدمات بنے محض خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے تمام مقدمات میں باعزت بری ہوئے۔