یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 72 of 137

یادوں کے نقوش — Page 72

ہوں۔ملکی خدمت میرا فرض ہے یوں بھی۔ع کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے 113 عالمگیر برکات مامور زمانه صفحه 74-75) مکرم میاں سراج الدین صاحب لاہور نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء پر مشتمل نظموں کے انعامی مقابلے کا اعلان بذریعہ ”الفضل“ شائع کروایا۔جس پر والد صاحب کی نظم بعنوان ”خدا تعالی اول قرار پائی اور مقررہ انعام کی حقدار ٹھہری۔بعض في البديهه اشعار والد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے موقع محل کے عین مطابق فی البدیہہ اشعار کہنے کا ملکہ بھی عطا کر رکھا تھا ایک دفعہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری پرنسپل جامعہ احمدیہ نے تقریباً ابتدائی ایام میں مکرم ومحترم حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد کو جامعہ احمدیہ احمد نگر میں تشریف لا کر طلباء جامعہ سے خطاب کرنے کی درخواست کی تو محترم امیر صاحب نے خطاب سے قبل یہ شعر پڑھا۔دعوی بیاں کا جامعہ والوں کے سامنے ہو بوئے مُشک غزالوں کے سامنے چندلحات کے بعد والد صاحب نے فی البدیہہ یہ شعر لکھ کر محترم پرنسپل صاحب کی وساطت سے محترم شیخ صاحب کی خدمت میں بھجوایا۔؎ ایسے ہیں آپ جامعہ والوں کے سامنے تمام ہلالوں کے سامنے یہ پہلی ملاقات محترم شیخ صاحب کے ساتھ مستقل تعلق کی ایسی بنیاد بنی جو تادم واپسیں اخوت ، عقیدت اور علم دوستی کے باعث بڑھتی چلی گئی۔محترم شیخ صاحب جب بھی ربوہ تشریف لاتے والد صاحب محترم کو ضرور یاد فرماتے۔( بحوالہ ماہنامہ انصار الله شیخ محمد احمد مظہر نمبر اپریل 1995 صفحہ 126-128 ) “ سفر آخرت کتنا دنیا 114 آپ کی شخصیت کے اس پہلو پر کچھ لکھنے سے قبل آپ کا ایک شعر یہاں درج کرتا ہوں جو آپ کی داخلی اور فکری کیفیات اور قانع طبع ہونے کی ٹھیک ٹھیک تر جمانی کرتا ہے۔ہے خوش نصیب ظفر آج تک جسے کے حادثات پریشاں نہ کر سکے کوئی انسان خواہ کتناہی بہادر اور باہمت کیوں نہ ہو جب وہ بستر علالت پر ہوتا ہے اور یہ علالت بھی دم واپسی کی طرف بڑھ رہی ہو اور ساتھ ہی مریض عمر رسیدہ بھی ہو تو ان حالات میں مریض کا بے چین پریشان ہونالازمی امر ہے۔ان جانگسل لمحات میں شاید و باید ہی ایسی مثالیں دیکھنے کوملی ہوں کہ مریض کا نفس مطمئنہ راضی بقضاء ہو۔شروع جنوری 1982ء میں جب آپ فضل عمر ہسپتال ربوہ میں بستر علالت ہ تھے اور صحت تیزی سے گر رہی تھی اور بحالی صحت کے امکانات روز بروز معدوم پر ہوتے چلے جارہے تھے۔عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا مگر آپ سب آنے والے احباب سے ملاقات کرتے ان کے مزاج اور طبیعت کے مطابق ان سے گفتگو بھی فرماتے۔ایک روز مکرم ماسٹر ہارون خان صاحب تشریف لائے تو آتے ہی انہوں نے مریض کو حوصلہ دینے کے خیال سے عدم کا یہ شعر پڑھا۔عدم متانت جواں گیسوؤں کی ނ کر بیمار ہو ہوا کھا رہے ہو والد صاحب نے شعر سن کر فوراً سنبھالا لیا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا اور شاید یہ شعر بھی عدم ہی کا تھا کہ زندگی کی حسین ترکش میں رحم تیر ہوتے ہیں کتنے