یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 71 of 137

یادوں کے نقوش — Page 71

111 حضرت خلیفۃ اسیح الرابع نے یہ نوٹ پڑھا تو آپ نے ناظر صاحب اشاعت کو لکھا کہ یہ واحد غزل کیسے ہوگئی؟ میرے علم کے مطابق تو وہ ایک بڑے پر مغز اور اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے۔اردو میں بھی کہتے تھے اور عربی میں بھی۔اگر یہ ان کی واحد غزل ہے تو پھر ساری نظمیں اور ان کا دیوان کہاں گیا۔اس پر محترم ایڈیٹر صاحب نے وضا حنا لکھا کہ مولانا ظفر صاحب غزل گو شاعر نہ تھے۔غزل کے لحاظ سے یہ ان کی واحد غزل ہے اس کے بعد حضور نے از راہ شفقت بچوں کی کلاس میں اپنی موجودگی میں ایک بچہ سے یہ غزل MTA پرسنی۔اس کے اختتام پر حضور نے والد محترم اور ان کے کلام کا تعریفی رنگ میں ذکر کیا۔خصوصاً اس آخری شعر پر کہ یاد میں اُس کی جو شیریں سے بھی شیریں ہے ظفر زندہ پھر قصہ فرہاد کروں یا نہ کروں یوں تبصرہ فرمایا کہ فصاحت و بلاغت کا کمال ہے۔مزید تعریفی کلمات فرماتے ہوئے شیریں فرہاد کے قصہ پر روشنی ڈالی۔اس سے قبل احمدی شعراء کا MTA پر ذکر خیر کرتے ہوئے خاکسار کے والد محترم کے بارے میں اور ان کی شاعری کے بارے میں تعریفی کلمات فرماتے ہوئے یہ کہا کہ مولانا ظفر محمد صاحب ظفر کے کلام کا بھی MTA پر ذکر آنا چاہئے۔پاکستان کے ایک معروف حکیم سابق وفاقی شوری کے رکن پاکستان طبی بورڈ کے صدر محترم حکیم نیر واسطی صاحب ستارہ خدمت ، والد صاحب کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔حکیم صاحب آپ سے اپنے شعروں کی اصلاح لیتے اور با قاعدہ خط و کتابت بھی رکھتے۔محترم والد صاحب اگر کسی حاجت مند مریض کو حکیم صاحب کے نام کوئی خط دیتے تو وہ اس سے رقم تک وصول نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ والد صاحب کسی کو رقعہ دینے سے قبل تامل سے کام لیتے تھے۔ایک مرتبہ حکیم صاحب نے “ 112 والد صاحب کے ساتھ اپنے تعلق خاطر کا اظہار بذریعہ خط اس شعر کی صورت میں کیا۔کہہ دو کوئی ظفر سے کہ اے شاہ علم و فن اک بے نوا فقیر نسبت ہے آپ کی درس و تدریس کے سلسلہ میں 1964 ء سے 1966 ء تک آپ کو کراچی میں رہنے کا اتفاق ہوا۔اس عرصہ کے دوران ایک بار مصر کے صدر مرحوم جمال عبدالناصر کراچی تشریف لانے والے تھے۔کراچی کی انتظامیہ ان کی آمد پر سرکاری ہدایت کے مطابق بزبان عربی قصیدہ کی صورت میں صدر محترم کو خوش آمدید کہنا چاہتی تھی۔کسی ذریعہ سے کمشنر کراچی کو والد صاحب کے تبحر علمی کی درک لگ گئی۔چنانچہ وہ آپ کے پاس پہنچے اور قصیدہ لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔لہذا آپ نے ان کی خواہش کے پیش نظر صدر کی آمد سے قبل عربی میں ایک قصیدہ لکھ کر دے دیا۔مگر ساتھ اس کا ترجمہ نہ کیا وہ لوگ قصیدہ لے گئے تو آپ فرمانے لگے میرا خیال ہے یہ دوبارہ ترجمہ کروانے واپس آئیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ قصیدہ بغرض ترجمہ واپس آ گیا۔قصہ کوتاہ اس قصیدے کو بہت ہی پسند کیا گیا۔اسی طرح جب عراقی صدر عبدالسلام عارف کی کراچی آمد ہوئی۔تب بھی مقامی انتظامیہ نے حسب سابق آپ کو ہی اس عزت افزائی کے قابل سمجھا۔فروری 1974 ء کو لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کا نفرنس کے موقع پر بھٹو حکومت ایک دوست ملک کے سربراہ کو اپنے ذاتی مراسم کی وجہ سے بھی عربی میں ہی سپاسنامہ پیش کرنا چاہتی تھی۔چنانچہ اس سلسلہ میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی خواہش پر محترم والد صاحب نے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کی اسلامی ملی اور ملکی خدمات نیز فلسطینی مسئلہ پر ان کی جرات مندانہ پالیسیوں کی نسبت سے ایک پر مغز قصیدہ لکھا جسے وفاقی وزیر نے بہت سراہا۔اظہار تشکر کے طور پر موصوف نے بخوشی والد صاحب کو بند لفافے میں کچھ رقم دینا چاہی تو آپ نے شکریہ کے ساتھ یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ میں کوئی پیشہ ور شاعر نہیں