یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 73 of 137

یادوں کے نقوش — Page 73

“ 115 فضل عمر ہسپتال ربوہ میں جب آپ کو افاقہ نہ ہوا تو پھر آپ کو الائیڈ ہسپتال فیصل آباد منتقل کر دیا گیا۔ڈاکٹروں کی ٹیم نے آپ کا مکمل طبی معائنہ کیا اور اس دوران وہ باہم انگلش میں ہی گفتگو کرتے رہے تا ایک بوڑھے مریض کو اس کی علالت کی شدت کی خبر نہ ہو کہ وہ چراغ سحری ہے۔اس پر والد صاحب بے ساختہ مسکرائے۔جس پر ایک ڈاکٹر صاحب بولے بزرگو! بیماری کی اتنی شدت میں آپ ہنس رہے ہیں ما شاء اللہ آپ تو بہت باہمت ہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اسی پر ہنس رہا ہوں کہ آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں ناخواندہ ہوں۔اس لئے آپ مجھے پریشانی سے بچانے کی خاطر انگلش میں میری صحت کی بحالی کو ناممکن قرار دے رہے ہیں۔اس بارہ میں عرض ہے کہ میں انگلش جانتا ہوں اور دوسری بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ میں موت سے قطعا نہیں گھبرا تا۔آپ بے شک کھل کر اور جس زبان میں چاہیں بات کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میرے اعصاب اور میری صحت ایسی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ایک روز جبکہ بیشتر عزیز آپ کے پاس بیٹھے تھے اور آپ کی حالت میں بھی کوئی افاقہ نہ تھا، فرمانے لگے میرے ذہن میں ایک شعر آ رہا ہے اسے میری آخری آرامگاہ پر لکھ دینا وہ شعر یہ تھا۔آئے مرے عزیز ہیں میرے مزار رحمت خدا کی مانگنے مشت غبار پر ނ انسان جب بستر مرگ پر ہوتا ہے تو بالعموم دنیا چھورنے کے خیال اور بتقضائے فطرت کسی قدر آزردہ ہو جاتا ہے مگر آپ کو حق تعالیٰ نے اس قدر نفس مطمئنہ عطا فر مایا تھا کہ آپ ہر حال میں صابر و شاکر اور راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو“ کی عملی تفسیر تھے۔آپ نے اپنی بیماری کے ایام جس صبر وتحمل سے گزارے ایسی مثالیں شاذ ہی ملیں “ 116 گی۔مورخہ 23 اپریل 1982 ء الائیڈ ہسپتال میں صبح کی نماز کے لئے جب مؤذن نے اللہ اکبر کہا تو آپ داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے مولی حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی غیر معمولی شفقت اور دلداری خاکسار کے والد محترم کو حضرت خلیفہ امسیح الثالث" کے ہم مکتب ہونے کا شرف حاصل تھا۔آپ کی وفات کے بعد حضور نے اسلام آبادروانگی سے ایک یوم قبل والد محترم کے جملہ اہل و عیال کو تعزیت اور دلداری کا خصوصی وقت عنایت فرمایا۔خصوصاً خاکسار کی والدہ محترمہ سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار فرمایا جس سے افسردہ دلوں کو خصوصی سکینت نصیب ہوئی۔حضور کی غیر معمولی شفقت توجہ اور انہماک کا یہ حال تھا کہ آپ کے منجھلے بیٹے نے وقفہ وقفہ سے آکر درخواست کی کہ کھانا لگ چکا ہے۔اس کے باوجود حضور نے ہمیں قیمتی وقت دیئے رکھا۔یہ حضور سے ہماری آخری ملاقات تھی۔دوسرے دن آپ اسلام آباد تشریف لے گئے جہاں حضور کو ہارٹ اٹیک ہوا جس کے باعث وہیں وفات ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ کی طرف سے تعزیتی خط ماہنامہ انصار اللہ جون 1982ء میں شائع ہوا۔آپ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں عیادت کیلئے بھی تشریف لائے تھے۔قارئین کرام سے درخواست دعا ہے کہ دادا جان مرحوم حضرت حافظ فتح محمد صاحب رفیق بانی سلسلہ جن کے طفیل ہم نے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کی سعادت پائی اور والد صاحب جن کے سایہ میں تربیت پائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نیک نقش قدم پر چلنے کی سعادت و توفیق ملتی رہے۔(روز نامہ الفضل 3،2،1 ستمبر 2004ء)