یادوں کے نقوش — Page 70
“ 109 ہے۔آپ کا شعری مجموعہ کلام ظفر“ کے نام سے آپ کی زندگی میں ہی شائع ہو چکا ہے۔آپ کی شعری استعداد کے حوالہ سے آپ کے زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ بڑا قابل ذکر ہے۔حضرت حکیم فضل الرحمان صاحب مربی سلسلہ 7 سال دیارا فریقہ میں خدمات دینیہ سرانجام دینے کے بعد جب واپس اپنے وطن تشریف لائے تو جامعہ احمدیہ قادیان نے ان کو ایک استقبالیہ پارٹی دی۔حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ بھی اس تقریب میں تشریف فرما تھے۔حضور کی موجودگی میں جب والد صاحب محترم نے اپنی پہلی عربی نظم مذکورہ تقریب میں پڑھی تو حضور نے یہ نظم سن کر ایک طویل تقریر فرمائی جس میں بے حد خوشی کا اظہار فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہمارے جامعہ کا کوئی طالب علم اتنی فصیح و بلیغ نظم بھی کہہ سکتا ہے۔تقریب کے خاتمہ پر جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کو حاضرین نے بہت مبارکباد دی۔( بحوالہ کلام ظفر صفحہ 236 طبع دوم ) آپ کی شاعری کے بارہ میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا تبصرہ جو فی الواقعہ ایک سند کی سی حیثیت رکھتا ہے ہدیہ قارئین ہے۔میں نے شروع سے آخر تک یہ تمام کلام پر لطف اور پر مغز پایا ہے۔ممکن نہیں کہ انسان اس پر محض سرسری نظر ڈالتے ہوئے گزر جائے۔کئی مقامات پر ٹھہر کر اطمینان سے اسی طرح لطف اندوز ہونا پڑتا ہے جیسے حسین قدرتی مناظر انسان کے قدم تھام لیتے ہیں۔ایک بھی نظم ایسی نہیں جو بے مقصد شاعری یعنی شاعری برائے شاعری کے ضمن میں آتی ہو اور حقیقت اور خلوص سے عاری ہو۔زبان بھی نہایت سلیس اور ہلکی پھلکی ہے سوائے اس کے کہ معانی کا وفور مشکل عربی اور فارسی کے الفاظ کے استعمال پر مجبور کر رہا ہو۔طرز بیان نہایت دلنشین۔فارسی اردو اور عربی پر برابر “ 110 دسترس۔ماشاء اللہ یہ مجموعہ کلام علم وفضل کا ایک مرقع اور ایک خوشنما پھولوں کا گلدستہ ہے جسے آپ کے خلوص اور ایمان نے ایک عجیب تازگی اور مہک عطا کر دی ہے۔“ ( بحوالہ کلام ظفر صفحه ب طبع دوم ) حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے تحریر فرمایا: محترم مولانا ظفر محمد صاحب اردو کے بہت خوش گو شاعر ہیں۔علاوہ ازیں انہیں عربی اور فارسی نظم لکھنے کا بھی ملکہ ہے اور یہ بات خاکسار نے خاص طور پر دیکھی که با وجود ایک اعلیٰ شاعر ہونے کے وہ سراپا عجز وانکسار ہیں اور نام و نمود سے بے نیاز۔محترم ظفر محمد صاحب کا اسلوب کلام ، سلاست اور روانی۔محاورہ اور بندش کی خوبی اور فن شاعری کے لحاظ سے ایک قابل قدر تصنیف ہے اور بہت سی نظمیں اپنی خوبی کے لحاظ سے سہلِ ممتنع ہیں۔یہ مجموعہ سلسلے کے لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور احباب اس مجموعے کو انشاء اللہ دلکش اور مفید پائیں گے۔نظموں میں دینی پہلو کو مدنظر رکھنا اور بے جا مبالغہ سے بچنا جماعت کے شعراء کا ایک امتیاز ہے جو اس مجموعے میں بھی نمایاں ہے۔“ واحد غزل ( بحوالہ کلام ظفر صفحه ج طبع دوم ) والد صاحب غزل گو شاعر نہ تھے کیونکہ آپ کی شاعری برائے شاعری نہ تھی۔وہ با مقصد اور حسب ضرورت اشعار کہتے تھے۔1966ء میں جب آپ کراچی میں مقیم تھے تو مکرم برکت اللہ محمود صاحب (مربی سلسلہ ) کی ترغیب اور خواہش کے پیش نظر اپنی زندگی کی یہ واحد فی البدیہہ غزل کہی۔یہ غزل 19 جنوری 2000ء کے روز نامہ الفضل میں شائع ہوئی۔مکرم ایڈیٹر صاحب الفضل نے اس پر یہ نوٹ دیا کہ یہ آپ کی واحد غزل ہے۔جب