یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 52 of 137

یادوں کے نقوش — Page 52

“ 75 محترم میاں صاحب کی صفات حسنہ کی چند یادیں جو ذاتی دید و شنید کے زمرہ میں آتی ہیں۔اس کا ذکر خیر کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔جرات و بہادری سال 1987ء میں آپ کے خلاف تھا نہ ربوہ میں پرچہ درج ہوا جس سے ربوہ میں عمومی طور پر گھبراہٹ کی کیفیت تھی اور ہر مخلص دوست حضرت میاں صاحب پر مقدمہ بنے پر فکر مند اور پریشان تھا اگر چہ پرچہ سو فیصد جھوٹ پر مبنی تھا لیکن حالات ناموافق اور انصاف عنقا ہو تو ان حالات میں خلیفہ وقت کے نمائندہ جن کا فعال اور بابرکت وجود پاکستان کے احباب کے لئے ڈھال سے کم نہ تھا مقدمہ پر پریشانی و تشویش کا ہونا لازمی امر تھا۔اس وقت کے نظام سلسلہ کے انتہائی ذمہ دار صاحب حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے (حسن اتفاق سے خاکسار اس وقت موجود تھا اور خوش قسمتی سے خاکسار بھی اس مقدمہ میں یکے از ملزمان میں تھا ) موصوف نے عرض کیا کہ محترم میاں صاحب افسوسناک خبر ہے کہ آپ کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے آپ نے آرام سے فرمایا تو پھر کیا ہوا آپ کیوں پریشان ہیں؟ آپ مطمئن رہیں انشاء اللہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔اس افسوسناک اور تکلیف دہ اطلاع پر آپ کے چہرہ پر رائی برابر بھی تشویش کے آثار دیکھنے میں نہ آئے۔البتہ قدرے تامل کے بعد فرمایا۔کہ اگر میرے خلاف پرچہ کی وجہ سے ایک بھی احمدی کا مورال ڈاؤن Moral Down) ہوا تو آپ جوابدہ ہوں گے۔حضرت میاں صاحب کے اس جرات مندانہ رد عمل پر اطلاع دینے والے صاحب کی تشویش سکینت میں بدل گئی۔“ 76 حضرت میاں صاحب کو جب بھی عدالت کی طرف سے حاضری کی اطلاع آتی تو عدالت میں حاضر ہونے سے قطعاً گریز نہ کرتے کبھی اس خواہش کا اظہار نہ فرماتے کہ میری حاضری معاف کروائی جائے۔عدالت کے اندر یا باہر جب بھی کرسی پیش کی گئی آپ قبول نہ فرماتے بلکہ اپنے دیگر احمدی ملزمان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کو ترجیح دیتے۔اللہ اللہ واقعی خدا داری غم داری چه چنانچہ انجام کار پرچہ خارج ہوا اور محترم میاں صاحب باعزت بری ہوئے بقول شاعر وہ تھا ہمالہ حوصلہ فولاد کے اعصاب تھے وہ یقیناً جرات و ہمت کی آب و تاب تھے خدام سے ہمدردی اس کے برعکس اپنے خدام سے ہمدردی کا یہ عالم تھا کہ وفات سے چند یوم قبل جب خاکسار گھر آیا تو اطلاع ملی کہ حضرت میاں صاحب نے فوری یاد فرمایا ہے۔یہ پیغام سن رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی رسیور اٹھایا تو برادرم چوہدری رشید احمد صاحب نظارت امور عامہ گویا ہوئے کہ فوراً آئیں محترم میاں صاحب نے ہم دونوں کو فوری یا د فرمایا ہے۔حاضر ہونے پر فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ مجلس مقامی کا ایک خادم پولیس کی حراست میں ہے فوری پولیس سے رابطہ کریں اگر وہ بے گناہ ہے تو اس کو رہائی دلوا کر مجھے اطلاع کریں۔حسب ارشاد بعد از تحقیق متعلقہ افسر سے رابطہ کر کے خادم کو رہائی دلوا کر رپورٹ عرض کی تو فرمایا کہ کوئی خرچ ہوا ہے تو بتا دیں۔عرض کیا کچھ نہیں ہوا۔متعلقہ افسر نے انصاف سے کام لیتے ہوئے تعاون کیا ہے۔