یادوں کے نقوش — Page 51
حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب صدقے جاں انہاں اچیاں توں جنہاں نیویاں نال نبھائی 73 یہ شعر گجرات کے مشہور و معروف صوفی منش پنجابی شاعر میاں محمد بخش صاحب کا ہے۔پیارے میاں صاحب کے بارے میں مجھ ناچیز خادم کے دل میں جو جذبات محبت و عقیدت ہیں یہ شعر بھی ان کی کما حقہ ترجمانی کرنے سے قاصر ہے۔محترم میاں صاحب نے نہ صرف ”نیویاں نال نبھائی بلکہ آپ نے اپنے امام و آقا کے ساتھ بھی خوب نبھائی اور ایسی نبھائی جو حضرت مسیح موعود کی جسمانی و روحانی اولا دسب کے لئے ایک ایسا نمونہ ہے جس پر جتنا رشک کیا جائے کم ہے۔آپ بے پناہ خوبیوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک تھے۔آپ کی شخصیت کا ہر پہلو قابل تقلید نیک نمونہ تھا۔عاجز کو 1970ء سے آپ کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جب آپ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ہمراہ احمد نگر میں زرعی فارم پر تشریف لائے تھے۔حضرت صاحب کے قافلہ میں شامل احباب میں سب سے آخر میں آپ ہوتے۔جو نہی بلائے جاتے تیزی سے حاضر ہوتے۔بعد از مشورہ انتہائی متانت اور وقار کے ساتھ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جاتے۔حضرت میاں صاحب کا اپنے آقا کے ساتھ باوجود انتہائی قابل احترام رشتہ میں منسلک ہونے کے ) عقیدت و احترام کا یہ انداز آج تک خاکسار کے دل پر نقش ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور پھر خلیفہ وقت کے ساتھ آپ نے زندگی بھر جس استقلال اخلاص، انکساری اور خلافت کیلئے جس غیرت “ 74 کا ثبوت دیئے رکھا وہ تاریخ احمدیت میں سنہری حروف میں رقم ہو گا۔آپ کی خلیفہ وقت کے ساتھ اطاعت و احترام کی یہ غیر معمولی صفت حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے ساتھ تو مزید نکھر کر سامنے آئی۔آپ کی ان خوبیوں کا ہی یہ ثمر ہے کہ حضور نے آپ کی وفات پر آبدیدہ اور گلو گیر آواز کے ساتھ جن الفاظ میں آپ کا ذکر فرمایا اس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:۔وو وہ بادشاہ آیا کی ( خدائی خبر ) کے متعلق فرماتے ہیں۔فرمایا دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے یعنی اس الہام کے ساتھ یہ آواز بھی آئی۔قاضی حکم کو بھی کہتے ہیں قاضی وہ ہوتا ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد کر دے۔یہ خوبی بھی حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی تھی۔باطل کو رد کرنے کے معاملے میں انتہائی بہادر انسان میں نے اور شاذ ہی دیکھے ہوں گے۔مگر جو میں نے دیکھے ہیں ان میں سے ان سے زیادہ جرأت کے ساتھ باطل کو رد کرنے والا اور کوئی نہیں دیکھا۔“ الفضل انٹر نیشنل 30 جنوری 1998ء) واقعی آپ خلافت کے لئے غیرت کا کوہ گراں انکساری اور اطاعت کا ایک بحر بیکراں تھے۔این سعادت بزور بازو نیست یہ نافع الناس ہمدرد غریب پرور وجود دشمن کے مقابلہ میں فولاد سے بھی سخت تھا۔جبکہ اپنوں، بے کسوں، غریبوں ، ماتحتوں ، ملازموں کے لئے بلا امتیاز ریشم کی طرح نرم تھا۔آپ کی زندگی صحیح معنوں میں رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا عملی نقشہ تھی۔آج