یادوں کے نقوش — Page 53
“ 77 “ 78 آپ نے ایک عام خادم کے بارہ جس تشویش و ہمدردی کا اظہار کر کے فوری رہائی دلوائی اس سے آپ کی خدام سے بے پناہ محبت اور ہمدردی کا نمایاں پہلو بھر کر سامنے آتا ہے۔جماعتی مفاد آپ نے ذاتی آرام وسکون کو ہمیشہ جماعت کے اجتماعی و انفرادی مفاد پر قربان کئے رکھا با وجود پیرانہ سالی کے دن ہو یا رات کا وقت ہو یا بے وقت ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے جیسا ادنیٰ خادم بھی ملنے گیا ہو تو ملاقات سے محروم رہا ہو ملاقات کرنے والا مشکل سے مشکل مسئلہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ مختصر الفاظ میں فوری انتہائی صائب اور جامع مشورہ سے نوازتے۔آپ کی گفتگو اور آپ کا مشورہ ہمیشہ ماقل و دل کے عین مطابق ہوتا۔ضیافت کا یہ عالم تھا جب بھی اطلاع ملی تو فوراً دروازہ کھول کر اندر بٹھایا۔آپ کی آمد سے قبل موسم کے مطابق مشروب کا آنا یقینی ہوتا تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے احمد نگر زرعی فارم سے یکے بعد دیگرے دولا ئیتی گائیں چوری ہوئیں تو فرمایا۔یہ چوری ہمارے لئے چیلنج ہے اگر ہم اپنے امام کی عدم موجودگی میں ان کے اموال کی حفاظت نہیں کر سکتے تو اس سے زیادہ ہماری کمزوری بے اعتنائی اور کیا ہو سکتی ہے۔لہذا ہرممکن کوشش کر کے چور ٹریس (Trace) کر کے مال مسروقہ واپس کروا ئیں۔اس سلسلہ میں مکرم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کی سرپرستی میں کوشش و تلاش کا حکم ہوا۔چنا نچہ کئی ماہ کی مسلسل جدو جہد کے بعد ملزمان کا سراغ لگا کر مال مسروقہ وصول کیا گیا۔مال مسروقہ چوروں سے واپس لینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن یہ مسلسل حضرت میاں صاحب کی ذاتی توجہ دیچیپسی جرات و نگرانی کے باعث ہی ممکن ہوا۔امانت و دیانت آپ کی زرعی اراضی رام والا احمد نگر کے پڑوس میں دو غیر از جماعت غیر زراعت پیشہ انتہائی مفلس افراد کی ڈھاری ہے۔انہوں نے چوروں کے ڈر سے اپنی دو بھینسیں حضرت میاں صاحب کے ڈیرہ پر باندھ رکھی تھیں کہ یہاں محفوظ رہیں گی۔اتفاق سے محترم میاں صاحب کے ڈیرہ سے دونوں بھینسیں چوری ہو گئیں۔حضرت میاں صاحب نے بلا کر فرمایا ان غریب ہمسایوں نے ہمیں مضبوط امین تصور کرتے ہوئے اپنی بھینسیں باندھی تھیں اب ہر حالت میں ان کی اصلی بھینسیں ہی واپس ہونی چاہئیں۔اس سلسلہ میں محترم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کو بھی فرمایا کہ آپ بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے بھینسوں کی واپسی کی ہر ممکن کوشش کریں تقریب ڈیڑھ ماہ کی مسلسل کوشش اور محترم میاں صاحب کی دعا ، توجہ اور مکرم مرزا مسرور احمد صاحب کی مکمل سر پرستی اور اثر ورسوخ سے ہم اصل دونوں بھینسیں چوروں کے نرغہ سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔الحمد الله علی ذالک یہ امر قابل ذکر ہے بھینسوں کی تلاش سراغ رسانی اور واپسی تک کے تمام اخراجات سے محترم میاں صاحب نے غریب مالکان کو بے نیاز کئے رکھا۔اس طرح آپ کے عمل نے ثابت کر دیا کہ آپ کا بابرکت وجود بلا امتیاز نافع الناس اور امانتوں کی حفاظت کرنے والا تھا۔حضرت میاں صاحب کی طبیعت کا ایک اور نمایاں پہلو یہ بھی ہے جو اپنے اندر بالکل انوکھا رنگ رکھتا ہے۔محترم میاں صاحب کے ایک ملازم مکرم محمد یوسف صاحب جو میاں صاحب کو بچوں کی طرح پیارا تھا، نے بتایا کہ آپ کا جب کبھی زرعی فارم سے کوئی ذاتی نقصان ہو جاتا تو ہم گھر اوغیرہ رواں کرتے اور تلاش کی کوشش کرتے۔تو آپ فرماتے ” جانے دیں کوئی غرض مند لے گیا ہو گا ممکن ہے اس طرح اس کی کوئی