یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 50 of 137

یادوں کے نقوش — Page 50

“ 71 میں کھانا کھا رہے تھے کہ اس اثنا میں حضور کو دیکھا کہ سیر کو تشریف لے جا رہے ہیں۔فوراً وہیں کھانا چھوڑ کر ساتھ ہو گئے۔اکثر حضور کے ذکر پر رو پڑتے تھے۔غریب آدمی تھے۔مخالفین نے بائیکاٹ کر دیا نہایت استقلال سے تکالیف کو برداشت کیا۔انہیں حضرت مسیح موعود کے پاؤں دبانے کا بھی شرف نصیب ہوا۔چونکہ یہ اکثر بزرگ خواندہ تھے۔اس لئے ان کی تبلیغی کوششوں اور نیک نمونہ سے بستی بزدار اور کوٹ قیصرانی میں بھی احمد یہ جماعتیں قائم ہو گئیں۔اس وقت صرف دو بزرگ زندہ ہیں۔یعنی محمد عثمان خان صاحب اور محمد مسعود خان صاحب یہ دونوں بزرگ اس وقت بہت بوڑھے ہو۔ہو چکے ہیں۔یہ ایک عجیب بات یہ ہے کہ حضرت فتح محمد خان صاحب و حافظ محمد خان صاحب اور ان کے بھائی نور محمد خان صاحب و میاں محمد صاحب جس قبرستان میں دفن ہیں اس کا نام پہلے سے ہی قبرستان صحابہ تھا۔کیونکہ مشہور ہے کہ اس میں حضرت بنی کریم ﷺ کے دو صحابہ کی قبریں موجود ہیں۔ان صحابہ کرام کے کوئی تاریخی حالات تو معلوم نہیں ہیں۔اس علاقہ میں متعدد مقامات پر ایسی قبریں پائی جاتی ہیں جو اصحاب کی قبریں کہلاتی ہیں۔مقامی لوگ انہیں لال اصحاب کہتے ہیں اور اغلب لال کا لفظ شہید کے لفظ کے مترادف ہے۔اور یا پھر لال پیارے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب و حافظ محمد خان صاحب و نور محمد خان صاحب کی قبریں صحابہ کرام کی قبروں کے ساتھ ساتھ ہیں۔اور جب ان قبروں کو اکٹھا دیکھا جاتا ہے تو آیت اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ فوراً سامنے آجاتی ہے۔اور لَمَّا يَلْحَقُوا کا مفہوم قَدْ لَحَقُو ابهِمُ ( کہ وہ ان سے مل گئے ) کے مفہوم لے دونوں بزرگ اب وفات پاچکے ہیں۔“ سے بدل جاتا ہے۔72 اللہ تعالیٰ ان سب بزرگوں پر ہزار ہزار رحمتیں نازل فرمادے۔اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے آمین ثم آمین روز نامہ الفضل 2 فروری 1955ء)