یادوں کے نقوش — Page 49
10 70 “ 69 صاحب اور ان کے برادر کلاں نور محمد خان صاحب اور نور محمد خان صاحب ثانی اور بخشن خان صاحب اور حافظ محمد خان صاحب اور میاں محمد صاحب و گوہر علی صاحب برادر کلاں مولوی محمد شاہ صاحب۔اس تحریری بیعت کے بعد مولوی صاحب موصوف واپس قادیان تشریف لے گئے۔مارچ 1903ء میں حضرت مسیح موعود پر کرم دین بھیں نے مقدمہ چلایا ہوا تھا۔انہی دنوں میں نور محمد خان صاحب ثانی ( والد محمد مسعود خان صاحب ) اور حافظ محمد خان صاحب اور میاں محمد صاحب خود قادیان گئے۔وہاں پہنچے تو حضرت مسیح موعود گورداسپور مقدمہ کی پیروی کیلئے تشریف لے گئے تھے۔یہ بزرگ وہاں ٹھہرے رہے۔حضور واپس تشریف لائے تو ان بزرگوں نے حضور کے دست مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔بیعت کے بعد یہ بزرگ ہفتہ عشرہ قادیان مقیم رہے۔اور جملہ حالات سے آگاہی حاصل کی۔اور حضور کی صحبت سے مستفید ہوتے رہے۔اور جب یہ بزرگ واپس تشریف لائے اور باقی لوگوں کو تمام حالات سنائے تو کچھ اور لوگوں نے بھی تحریری بیعت کر لی۔اور اس طرح یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک مضبوط جماعت قائم ہوگئی۔1903ء میں حافظ سردار فتح محمد خان صاحب، عثمان خان صاحب و بخشن خان صاحب قادیان دارالامان روانہ ہوئے۔وہاں جا کر انہوں نے بھی حضور کی دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔اور پندرہ بیس دن تک برکات صحبت سے فیضیاب ہوتے رہے۔اور ساتھ ہی ریویو بھی اپنے نام پر جاری کروا آئے۔1907ء میں پھر مولوی محمد شاہ صاحب دوبارہ تشریف لائے اور ماہ دسمبر 1907ء نور محمد خان صاحب اول یعنی برا در حافظ فتح محمد خان صاحب و محمد مسعود خان صاحب ولد نورمحمد خان صاحب ثانی و میاں محمد صاحب مولوی محمد شاہ صاحب کی معیت میں قادیان تشریف لے گئے اور محمد مسعود خان صاحب اور نور محمد خان صاحب اول نے بھی دستی بیعت کا شرف حاصل کیا اور میاں محمد صاحب نے دوبارہ بیعت کا شرف حاصل کیا۔اور یہ سب جلسہ سالانہ 1907ء میں شریک ہوئے۔مندرجہ بالا تفصیل سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی بستی کے مندرجہ ذیل آٹھ بزرگوں کو حضرت مسیح موعود کی صحبت کے شرف سے بہرہ ور کیا۔حضرت حافظ محمد خان صاحب مندرانی ، حضرت میاں محمد صاحب ( حجام ) ، حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی، حضرت بخشن خان صاحب مندرانی ، حضرت محمد عثمان خان صاحب مندرانی ، حضرت نور محمد خان صاحب مندرانی ، حضرت نور محمد خان صاحب مچھرانی، حضرت محمد مسعود خان صاحب مچھرانی یہ سارے بزرگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت مخلص اور احمدیت کے رنگ میں رنگین تھے۔حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب ایک جید عالم اور فارسی کے اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود کی تائید میں ایک فارسی کی منظوم کتاب بھی لکھی تھی۔مگر افسوس کہ وہ قبل اشاعت ہی ضائع ہوگئی۔اس کتاب کا پہلا شعر ان کے صاحبزادے مولوی ظفر محمد خان صاحب ظفر پروفیسر جامعہ احمدیہ کو یا دتھا۔ان کا کہنا تھا کہ حضرت والد صاحب کی کتاب کی پہلی نظم کا عنوان ” سلام بنام امام مہدی علیہ السلام تھا، جس کا پہلا شعر یہ تھا۔السلام السلام اے اے یوسف نوح کشتی کنعان بان ما سوائے میاں محمد صاحب کے باقی سب بزرگ تعلیم یافتہ تھے اور محمد صاحب اگر چہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔لیکن حضور کے عشق اور محبت میں نمایاں درجہ رکھتے تھے۔ان کے حالات الفضل 27 اکتوبر 1951ء میں شائع ہو چکے ہیں۔ایک دفعہ وہ قادیان