یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 48 of 137

یادوں کے نقوش — Page 48

بستی مند رانی کے چند قدیم رفقاء 67 20 حضرت مسیح موعود کے چند رفقاء کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔جن کے حالات آج تک زاوية الخمول میں رہے۔ضلع ڈیرہ غازی خان تحصیل تونسہ شریف میں رود کوہی سنکھر (Roudkohi Sanghr) کے دائیں جانب دامن کو ہ سلیمان میں ایک چھوٹی سی بستی مندرانی واقع ہے۔جس کے باشندوں کی اکثریت بلوچ قوم پر مشتمل ہے۔حضرت مسیح موعود کی آمد سے پہلے اس بستی میں ایک بزرگ میاں رانجھا خان صاحب رہتے تھے۔جو ایک خدا رسیدہ اور صاحب کشف و کرامات انسان تھے اور اس بستی کی مسجد کے پیش امام تھے۔جواب احمد یہ بیت الذکر کے نام سے موسوم ہے وہ اپنے مقتدیوں سے کہتے تھے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اب ظاہر ہونے والے ہیں۔اس لئے ان کی امداد کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے خود بھی ایک تلوار خرید رکھی تھی۔جب انہوں نے تلواخر یدی تو اس وقت وہ عمر رسیدہ تھے۔اور امن کا زمانہ تھا۔لوگوں نے کہا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے آج کل تلوار خریدنے کا کیا فائدہ تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت امام مہدی آنے والے ہیں۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جونہی ان کی آواز میرے کانوں تک پہنچے میں بلا حیل و حجت ان کے انصار میں داخل ہو کر ان کی امداد کر سکوں۔نیز فرماتے اگر کوئی شخص ان کی آواز سن لینے کے بعد اپنے گھر چادر لینے کے لیے بھی جائے گا۔تو وہ ان کی قبولیت کی سعادت حاصل کرنے سے مرحوم رہ جائے گا۔( ہمارے ہاں چادر سنبھالنے کے اے کوہ سلیمان سے نکلنے والے نالے کا نام ہے۔“ 880 68 معنے تیاری سفر کرنے کے ہیں ) میاں رانجھا صاحب بستی کے ایک عالم آدمی تھے۔اس بستی کے نوجوان ان سے علوم قرآنیہ اور مثنوی رومی اور دیگر کتب دینیہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ان نوجوانوں میں سے حافظ سردار فتح محمد خان صاحب اور نور محمد خان صاحب اور حافظ محمد خان صاحب نے نمایاں تعلیم حاصل کی۔انہی ایام میں اس بستی کے ایک شخص جن کا نام محمد ولد محمود تھا۔حصول تعلیم کی خاطر کسمپرسی کی حالت میں پھرتے پھراتے راولپنڈی پہنچے اور حکیم شاہ نواز صاحب کے ہاں مقیم ہوئے۔وہاں حضرت مسیح موعود کا نام سنا اور یہ واقعہ قریباً 1901 ء کا ہے۔اس پر وہ فورا راولپنڈی سے قادیان چلے گئے اور وہاں جا کر شرف بیعت حاصل کیا اور حضرت خلیفہ مسیح الاول نور اللہ مرقدہ کے درس میں شامل ہو کر تعلیم حاصل کی۔یہی صاحب ہیں جو بعد میں قادیان میں مولوی محمد شاہ صاحب کے نام سے مشہور ہوئے اور حضرت خلیفہ امسیح الاول نور اللہ مرقدہ نے انہیں مبلغ بنا کر کشمیر بھیج دیا۔موضع آسنور میں انہوں نے شادی کی جن کے ایک صاحبزادے عبداللہ صاحب اب بھی زندہ موجود ہیں جو کہ مولوی فاضل ہیں۔مولوی محمد شاہ صاحب وہیں کشمیر میں ہی فوت ہوئے اور وہاں مدفون ہیں۔مولوی محمد شاہ صاحب نے اپنے احباب کو 1901ء میں اطلاع دی کہ امام مہدی آگئے ہیں اور ساتھ ہی حضرت مسیح موعود کا کچھ منظوم کلام بھی بھیجا۔بستی کے خواندہ لوگ مسیح موعود کی آمد کے لئے پہلے ہی چشم براہ تھے۔انہوں نے لکھا کہ وہ بذات خود تشریف لا کر جملہ حالات سے آگاہ کریں۔چنانچہ 1901ء میں مولوی صاحب موصوف حضرت صاحب کی کچھ کتب ہمراہ لے کر وہاں پہنچے۔ان کے آنے کے بعد مندرجہ ذیل بزرگوں نے بیعت کے خطوط حضرت صاحب کی خدمت اقدس میں بھیج دیئے۔حضرت حافظ فتح محمد خان لاب وفات پاچکے ہیں۔س الفضل میں چھپنے والے مضمون میں غلطی سے 1902 لکھا گیا ہے۔