یادوں کے نقوش — Page 21
15 ثلا کشتی رانی میں پاکستان ونر، کبڈی، فٹ بال میں زونل چیمپئین اور باسکٹ بال میں تو اس کی کارکردگی ہمیشہ منفر در ہی۔لیکن ان تمام باتوں سے بڑھ کر آپ کی بطور پرنسپل یہ نمایاں خوبی تھی جو کسی اور میں دیکھنے میں نہیں آئی کہ آپ اپنے آپ کو صرف کالج اوقات میں پرنسپل نہیں سمجھتے تھے بلکہ چوبیس گھنٹے ہر طالب علم کی تعلیمی ، اخلاقی اور روحانی ترقی کی طرف نگاہ رکھتے تھے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کالج میں دینیات کا مضمون لازمی تھا جب کہ بورڈ میں یہ مضمون تھا ہی نہیں اور ایسے ہی آپ اس امر کی طرف خصوصی توجہ دیتے کہ ہر طالب علم با قاعدگی سے اپنے اپنے عقائد کے مطابق نماز ادا کرے۔اس سے ان کی دین سے عقیدت اور طلباء کی روحانی ترقی کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ایک امر جس سے میں نے بے حد اثر لیا وہ یہ کہ کالج میں آپ کی ہر جہت سے ہر چیز پر مضبوط گرفت تھی لیکن کسی بھی طالب علم کو گھٹن کا احساس نہیں ہوتا تھا۔آپ کے حسن انتظام ہی کا یہ ثمرہ تھا کہ طلبہ اور اساتذہ میں مکمل ہم آہنگی تھی۔ظفر:۔جیسا کہ آج کل کالجوں میں دھڑا بندی اور بدمزگی دیکھنے میں آتی ہے کیا آپ کے دور میں بھی ایسا ہی تھا؟ لالی صاحب:۔ہمارے وقت میں کبھی بھی کسی قسم کی مذہبی، سیاسی ، لسانی، گروہی کوئی بھی بدمزگی پیدا نہیں ہوتی تھی۔حتی کہ یونین کے انتخاب کے دوران بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آتا تھا حالانکہ طلباء مختلف مذہبی فرقوں سے تعلق رکھتے تھے۔لیکن انتخابی مہم کبھی بھی مذہبی بنیادوں کے گرد نہیں چلتی تھی۔نہ ہی کالج کے اساتذہ کرام کے رویہ سے کبھی اس کا اظہار ہوتا تھا۔ان تمام کامیابیوں کا مکمل سہرا اس مقتدر، بارعب لیکن ہر دلعزیز نورانی شخصیت حضرت صاحبزادہ صاحب کے سر تھا۔ظفر :۔لالی صاحب آپ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے بارہ میں مقتدر اور بارعب کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں۔کیا یہ رعب اور اقتدار پرنسپل صاحب اور “ طلباء کے درمیان حائل تو نہیں تھا ؟ 16 لالی صاحب:۔آپ شاید بھول گئے ہیں کہ میں نے اس کے ساتھ ہر دلعزیز کا لفظ بھی استعمال کیا ہے اور اب بھی میں یہ کہوں گا کہ وہ انتہائی بارعب ہونے کے باوجود انتہائی ہر دلعزیز بھی تھے۔آپ طلباء میں ہمیشہ گھل مل کر رہنے کو پسند فرماتے تھے بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آپ کی محبت اور شفقت کے نتیجہ میں طلباء آپ سے ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے مزاح بھی کر لیتے تھے جسے آپ برامحسوس نہیں فرماتے تھے ایک واقعہ مجھے آج تک یاد ہے کہ محترم میاں صاحب کی ایک پرانے ماڈل کی مورس کا رہوا کرتی تھی۔ہمارے کالج میں ایک مشاعرہ ہوا۔اس مشاعرہ میں آپ بنفس نفیس رونق افروز تھے۔ایک طالب علم نے ایک نظم پڑھی جس کا عنوان تھا، ہمارے میاں صاحب کی پھٹ پھٹ پھٹ، ایک شعر ملاحظہ ہو: چلتی ہے ایک میل کھاتی ہے دو من پٹرول ہمارے میاں صاحب کی پھٹ پھٹ پھٹ جب یہ اشعار پڑھے جارہے تھے اس وقت میاں صاحب کے چہرے پر پھولوں کی سی مہک اور حقیقی مسکراہٹ جو ہم نے دیکھی وہ ہمیں تازندگی نہیں بھولے گی۔ظفر :۔لالی صاحب آپ اپنے کالج کے دوران کا کوئی نا قابل فراموش واقعہ سنا سکتے ہیں؟ لالی صاحب: کالج کے دوران بے شمار واقعات ایسے ہیں جنہیں بھلایا نہیں جاسکتا۔لیکن ایک واقعہ ایسا ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔اور وہ یہ ہے کہ کالج میں چنیوٹ کی والی بال اور ٹی۔آئی کالج کی ٹیم کا میچ ہو رہا تھا۔محترم میاں صاحب کھلاڑیوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔میاں صاحب میچ دیکھنے کے لئے پہنچ گئے۔سوئے اتفاق سے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی اور