یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 20 of 137

یادوں کے نقوش — Page 20

13 مارکیٹ کمیٹی بلد یہ لالیاں رہے سے سر راہ ملاقات ہوئی جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے شاگردوں میں سے ہونے کے علاوہ اس علاقہ کے انتہائی معزز اور بااثر خاندان کے چشم و چراغ بھی ہیں۔میں نے ان سے انٹرویو کی خواہش کا اظہار کیا کہ اس سلسلہ میں میں لالیاں کب حاضر ہوں؟ لالی صاحب بلا توقف فرمانے لگے میں تو اپنے آپ کو اس قابل قطعاً نہیں سمجھتا کہ اس محسن اور شفیق استاد کی عظیم تعلیمی خدمات کے بارہ میں کچھ عرض کروں لیکن اگر آپ مجھے یہ عزت بخشنا چاہیں تو اس سے بڑی سعادت میرے لئے اور کیا ہوسکتی ہے لیکن ایک شرط کی آپ کو پابندی کرنی ہوگی۔میں نے دریافت کیا وہ کون سی۔فرمانے لگے وہ یہ کہ اس سلسلہ میں آپ لالیاں نہ آئیں بلکہ میں خود ربوہ حاضر ہوں گا۔کیونکہ میرے ساتھ میرے عظیم استاد محترم کی جو خصوصی شفقت تھی اس کا حق یہ ہے کہ میں خود چل کر آپ کے پاس ربوہ آؤں جہاں سے میں نے اپنے پیارے استاد کا پیار اور شفقت پائی۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر مجھے اس سلسلہ میں سینکڑوں مرتبہ بھی ربوہ آنا پڑے تو پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ان کا خلوص اور اصرار میری درخواست پر غالب آیا۔چنانچہ وہ اس سلسلہ میں ایک بار نہیں متعدد مرتبہ غریب خانہ پر ربوہ تشریف لائے لیکن سوء اتفاق سے ہماری ملاقات نہ ہو سکی۔ایک دن جناب لالی صاحب نے صبح سویرے ہی آ پکڑا اور فرمانے لگے کہ آج میرا چھا پہ کامیاب رہا ہے۔آئیے ہم اپنے شفیق استاد کا ذکر خیر کریں جنہوں نے اس پس ماندہ علاقہ میں ناصرف علم کی شمع روشن کی بلکہ یہاں کے لوگوں کی لا متناہی سماجی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔فرمانے لگے۔گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینه را وہ یہ باتیں بڑے خلوص ،محبت اور پرانی یادوں میں ڈوب کر کہہ رہے تھے اور “ 14 میں سوچ رہا تھا کہ میرا فرض اور خواہش یہ تھی کہ لالی صاحب کا انٹرویو کیا جائے لیکن ادھر لالی صاحب نے اپنے خلوص کے باعث معاملہ بالکل برعکس کر دیا ہے۔میں نے ان کے خلوص، عالی ظرفی اور وسیع النظری کی داد دینی چاہی تو فرمانے لگے یہ سب کچھ میرے استاد محترم کی مقناطیسی شخصیت اور پیار کا نتیجہ ہے۔اس کے بعد خاکسار نے ان سے اپنے تاثرات ریکارڈ کرانے کے بارہ میں عرض کیا تو فرمانے لگے مجھے تو ان کی ہمہ صفت اور انتہائی ارفع و اعلیٰ شخصیت کی وجہ سے یہ سمجھ ہی نہیں آرہی کہ میں ان کا ذکر خیر کہاں سے شروع کروں۔لہذ آپ سوالوں کی صورت میں میری اعانت کریں تاکہ میں اس کے مطابق اپنا مافی الضمیر کما حقہ ادا کر سکوں چنانچہ میں نے سلسلہ گفتگو کا آغاز یوں کیا:۔ظفر :۔آپ تعلیم الاسلام کالج میں زیر تعلیم رہے ہیں اور آپ کو حضرت صاحبزادہ صاحب کی شاگردی کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔آپ بطور پرنسپل کیسے تھے؟ لالی صاحب:۔میں واقعی خوش قسمت ہوں کہ مجھے محترم صاحبزادہ صاحب کے وقت میں کالج میں زیر تعلیم رہنے کا اعزاز حاصل رہا بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ مجھے تو مزید یہ شرف بھی حاصل رہا کہ میں آپ کے منظور نظر شاگردوں میں شمار کیا جاتا تھا۔( نہایت بے انصافی ہوگی اگر میں اس وقت اپنے قابل صد احترام ماموں جان مہر محمد اسماعیل صاحب لالی کا ذکر نہ کروں کہ جن کے باعث حضرت صاحبزادہ صاحب کی شفقت میں مزید اضافہ ہوا۔) جہاں تک آپ کا بطور پرنسپل تعلق ہے اس سوال کو اگر اس علاقہ میں ربوہ کے نئے قیام اور خصوصاً 1953ء کے حالات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ان حالات میں آپ کی کامیابی معجزے سے کم نہیں۔یہ محض آپ کی خدا داد صلاحیت کا نتیجہ تھا کہ چند سال میں اس کالج کا مقام پاکستان میں نمایاں ہو گیا نہ صرف تعلیم بلکہ کھیل کے میدان میں بھی نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔