یادوں کے نقوش — Page 22
17 اچانک نوبت لڑائی تک پہنچ گئی۔محترم میاں صاحب نے بآواز بلند اپنے لڑکوں سے کہا کہ لڑنا نہیں۔میاں صاحب کی فوری مداخلت پر لڑائی ختم ہوگئی۔اس لڑائی میں زیادتی ربوہ کے کھلاڑیوں کی بجائے چنیوٹ کے دو تین نوجوانوں کی تھی جو تماشائی تھے۔محترم میاں صاحب چنیوٹ کے کھلاڑیوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے معذرت کی اور ان کی ہر طرح سے دلجوئی فرمائی۔اس اثناء میں ایک غیر ذمہ دار نوجوان نے کہا ہم پر چہ دیں گے اور قانونی کارروائی کریں گے۔محترم میاں صاحب نے کمال شفقت اور ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔آپ بے شک کریں لیکن ٹی آئی کالج آپ کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گا کیونکہ آپ ہمارے معزز مہمان ہیں۔میاں صاحب کے ان الفاظ کے بعد چنیوٹ کے کھلاڑیوں کا تمام غصہ کا فور ہو گیا اور کشیدگی محبت کی فضا میں بدل گئی۔ظفر :۔آپ اس علاقہ کے معروف اور بااثر لالی خاندان کے فرد ہیں۔کیا آپ اس امر پر بھی روشنی ڈالنے کی پوزیشن میں ہیں کہ محترم صاحبزادہ صاحب کالج کے علاوہ اس علاقہ کے عوام وخواص سے بھی روابط و تعلق رکھتے تھے؟ لالی صاحب محترم میاں صاحب کی کالج میں لامتناہی مصروفیات کے با وجود آپ کے اس علاقہ کے خاص و عام سے ذاتی مراسم تھے اور وہ ہمیشہ اس علاقہ کی فلاح و بہبود، اقتصادی و سماجی ترقی میں کوشاں رہتے تھے۔اس ضمن میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان کے سماجی روابط کسی ایک شخص کے گرد نہیں گھومتے تھے بلکہ وہ تمام طبقوں اور گروپوں سے مساوی رابطہ رکھتے تھے۔ان کے روابط اتنے مخلصانہ اور روادارانہ ہوتے تھے جس کے باعث علاقہ بھر میں ایک ایسا غیر متعصبانہ ماحول پیدا ہوا جس نے نفرت اور تعصب کی سوچ کو مکمل طور پرختم کر دیا جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ کبھی بھی فرقہ “ 18 وارانہ کشیدگی کا مرکز ربوہ کا گردو نواح نہیں بنا بلکہ اگر کبھی بدقسمتی سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی بھی تو ربوہ کے نواح کے لوگوں نے مجموعی طور پر شر پسندی کی بجائے امن پسندی اور مثبت رد عمل کا اظہار کیا جس کی اصل وجہ صاحبزادہ صاحب کے ہر طبقہ کے لوگوں سے ذاتی روابط تھے۔ظفر :۔میں آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے کافی وقت دیا ہے۔اب جمعہ کی نماز کا وقت ہے اس لئے مجبوراً یہ گفتگو ختم کرنی پڑ رہی ہے۔اگر زندگی ہوئی تو پھر مزید باتیں ہوں گی۔انشاء اللہ لالی صاحب :۔آپ میرا شکریہ ادا کر رہے ہیں حالانکہ شکریہ تو مجھے ادا کرنا چاہئے تھا جنہوں نے مجھے اپنے محسن استاد اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ) کا ذکر خیر کرنے کا موقعہ فراہم کیا ، شکریہ۔ناممکن کو ممکن بنا دیا (ماہنامہ خالد ربوہ سیدنا ناصر نمبر صفحہ 285 تا288) (روز نامہ الفضل 18 اگست 2001ء) سابق صدر ایوب خان نے جب 1962ء میں ملک میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا تو علاقہ کے متعدد قابل ذکر سیاسی و سماجی رہنما حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے شروع ہوئے اور آپ سے انتخابات میں امیدوار کھڑے کرنے کے سلسلہ میں رہنمائی کے طالب ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی عظیم شخصیت اور غیر جانبداری نے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا۔وہ یہ کہ علاقہ کے متحارب گروپوں کے سرکردہ جن کے باہمی شدید اختلافات تھے اور اب بھی ہیں، اور جو کبھی ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوئے تھے۔وہ آپ کی بصیرت، غیر جانبداری اور خدا دا در ہنمائی کی صلاحتیوں کے باعث ایک پلیٹ