یادوں کے نقوش — Page 16
“ 5 عَنْ زِيَادِ بنِ لَبِيهِ قَالَ : ذَكَرَ النَّبِيُّ الا الله شَيْئًا فَقَالَ : " ذَاكَ عِندَ أَوَان ذَهَابِ الْعِلْمِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَ نَا وَيُقْرِثُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَ هُمْ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: تَكِلَتُكَ أُمَّكَ، زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لأراكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، لَا يَعْلَمُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا؟» (سنن ابن ماجہ ابواب الفتن باب ذهاب القرآن والعلم ) ترجمہ:۔زیاد بن لبید سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے ایک چیز کا ذکر کیا، فرمایا کہ یہ علم کے چلے جانے کے وقت وقوع پذیر ہوگی۔میں نے کہا۔یارسول اللہ ! علم کس طرح جا سکتا ہے۔جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اسے اپنی اولاد کو پڑھائیں گے اور آگے ہمارے بیٹے اپنی اولاد کو تا قیامت پڑھاتے رہیں گے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اے زیاد! تیری ماں تجھ کو کھوئے۔میں تو تجھے اس شہر میں بہت سمجھدار انسان سمجھتا تھا۔کیا یہود اور عیسائی تو ریت اور انجیل نہیں پڑھتے۔لیکن وہ اس کے مفہوم اور مطلب کو بالکل نہیں سمجھتے۔اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے تصور میں بھی یہ بات نہ آسکتی تھی۔کہ مسلمانوں پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے۔کہ قرآن کریم کے ہوتے ہوئے بھی مسلمان اس کے علم سے بے بہرہ ہو جائیں گے اور وہ قرآنی علوم کے نور سے محروم رہ کر یہود و نصاری کے مشابہ ہو جائیں گے لیکن اب ہماری حالت واقعی قابل رحم ہے۔کیونکہ اول تو مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہی نہیں۔اگر کبھی تلاوت کر بھی لیں۔تو پھر قرآن کریم کے الفاظ ان کے گلے سے نیچے نہیں اُترتے۔اور صحیح معنوں میں آنحضرت ہی ہے کے اس قول کے مصداق بن رہے ہیں کہ مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت تو کریں گے لیکن “ 00 6 قرآن کریم کے الفاظ ان کی ہنسلیوں سے تجاوز نہیں کریں گے۔غرض ہمارے لئے از بس ضروری ہے۔کہ ہم قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کے معانی اور مطالب پر بھی غور کرتے جائیں۔سادہ قرآن شریف پڑھنے والے کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی مریض کسی حکیم سے اپنی بیماری کا نسخہ لکھوائے اور اس کے بعد بجائے اس کے کہ اس کے مطابق اشیاء خرید کرے اور ان کی دوا بنا کر استعمال میں لائے اس کو طوطے کی طرح رٹنا شروع کر دے۔(روز نامه الفضل 3 / جون 1954 ء)