یادوں کے نقوش — Page 17
سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی کبھی نہ بھولنے والی دل گداز یاد میں پہلی زیارت 1947ء 7 اگر چہ میری پیدائش فیروز پوری کی ہے مگر میں بچپن میں ہی آبائی وطن ڈیرہ غازیخان چلا گیا۔جہاں سے میری واپسی 1945ء کے لگ بھگ ہوئی۔دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ اگست 1947ء میں آزادی کا بنگل بج گیا اور ہندوستان کے بٹوارے کا عمل شروع ہو گیا۔ہندوستان بھر میں فتنہ و فساد کی لہریں پھوٹ پڑیں جو علاقے ہندوستان میں رہ گئے ان میں بسنے والے مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔فساد کی آگ تیزی سے قادیان کی طرف بڑھ رہی تھی۔اس وقت قادیان سے نکلنا تو کجا اپنے گھروں سے نکلنا بھی جان کی بازی لگانے کے مترادف تھا۔ملکی تقسیم اور پھر خدا کی تقدیر داغ ہجرت کے تابع ہمیں بھی حضرت مسیح موعود کی بستی سے ہجرت کرنا تھی۔ذرائع آمد و رفت کی کمی اور کئی دیگر اقسام کے تقاضوں کے پیش نظر جماعتی فیصلہ یہ قرار پایا کہ پہلے صرف بچوں، عورتوں، اور ضعیف افراد کو پاکستان پہنچایا جائے۔چنانچہ قادیان سے روانہ ہونے والے غالبا دوسرے قافلہ میں خاکسار بھی اپنے والدین کے ہمراہ تھا۔اس وقت میری عمر کوئی 13 سال کے لگ بھگ ہو گی۔شدید بارش کے باعث راستہ بہت ہی خراب تھا اور پھر قدم قدم پر سکھوں ، ہندوؤں کے علاوہ ڈوگرہ وو لے الفضل میں چھپنے والے مضمون میں غلطی سے قادیان لکھا گیا ہے۔“ 8 سکھ ملٹری کے حملہ آور ہونے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ہمارا یہ قافلہ قادیان سے روانگی کے قریباً 2-3 گھنٹوں میں بمشکل تین میل کی مسافت طے کرنے کے بعد قتلے والی نہر کی پڑی پر پہنچ کر قدرے صاف راستہ میسر آنے کی وجہ سے نسبتا رفتار پکڑ ہی رہا تھا کہ اچانک تمام قافلہ جو قریباً25-26 ٹرکوں اور بسوں پر مشتمل تھا، روک دیا گیا۔ہر شخص پریشانی کے عالم میں مختلف قیاس آرائیاں کرنے لگا کہ صاف راستہ آجانے کے باوجود قافلہ کو کیوں روک دیا گیا ہے۔ہم لوگ ایک ٹرک کی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک ہمارے ٹرک کے قریب ایک انتہائی خوبصورت نوجوان موٹی آنکھیں ، کشادہ پیشانی ،سرخ و سفید رنگت، چہرہ گلاب کے پھول کی طرح روشن، متناسب قد و قامت آکھڑا ہوا۔اس نوجوان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی عکاسی کسی حد تک یہ شعر کرتا ہے۔آنکھیں کہ جیسے نور کی ندی چڑھی ہوئی ہو چہرہ کہ جیسے پھول کھلا گلاب کا اس نوجوان نے گرجدار اور بارعب آواز میں خاکسار کے والد محترم مولانا ظفر محمد صاحب ظفر سے استفسار فرمایا ” ظفر محمد صاحب ! آپ کدھر؟ یعنی منشاء یہ تھا کہ قافلوں میں تو صرف عورتیں، بچے اور ضعیف لوگ جارہے ہیں۔آپ تو جوان ہیں آپ کس طرح جار ہے ہیں۔اس پر والد صاحب مرحوم نے ایک جماعتی خط دکھایا جس پر لکھا تھا کہ ان کو ضروری جماعتی فریضہ کی ادائیگی کے لئے بھجوایا جا رہا ہے۔اس خط کو پڑھتے ہی آپ نے متبسم چہرہ کے ساتھ جانے کی اجازت عطا فرما دی۔جب وہ خوبصورت اور حسین نوجوان ہمارے سے پچھلے ٹرک کی چیکنگ کے لئے گئے تو خاکسار نے اپنے والد صاحب سے دریافت کیا کہ یہ نوجوان کون صاحب تھے۔اس پر والد صاحب محترم نے فرمایا یہ