یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 15 of 137

یادوں کے نقوش — Page 15

“ 3 مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں اس طرح اپنی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔کہ پھر اس کی ذات اور صفات میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔مومنوں کے ایمان میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔اور جب یہ چیز پیدا ہو جاتی ہے تو پھر خدا ان کو اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے اور وہ دنیا کی عزت اور آخرت میں بھلائی حاصل کر لیتے ہیں۔پھر تلاوت کرنے والے تو رہے ایک طرف تلاوت سننے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے محروم نہیں رکھا۔اس نے ان کیلئے بھی رحمت کا وعدہ فرمایا ہے۔چنانچہ ارشاد ہے وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَاَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: 205) یعنی جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اسے بہت توجہ کے ساتھ سنو اور خاموش رہو۔تا کہ اس کی برکت سے تم پر رحم کیا جائے۔تلاوت قرآن کریم کے متعلق ہمارے صلى الله آقا سرور دو جہاں سید ولد آدم حضرت محمد علیہ فرماتے ہیں۔أَفْضَلُ عِبَادَةِ أُمَّتِي تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ۔ترجمہ: میری امت کیلئے سب سے بہترین عبادت تلاوت قرآن کریم ہے۔پھر فرماتے ہیں۔خَيْرُ كُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ۔یعنی تم میں سے بہتر وہ شخص ہے۔جو خود قرآن کریم کا علم پڑھے اور دوسروں کو سکھائے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی تلاوت ایسے ذوق و شوق اور محبت اور محویت سے کرتا ہے۔کہ اسے اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے دعا کرنے کی بھی خبر نہیں رہتی۔تو اللہ تعالیٰ اس کو دعامانگنے والوں سے زیادہ انعام دیتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ لوہے کی طرح دل کو بھی زنگ “ رض 4 لگ جاتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ کس چیز سے اس زنگ کو دور کیا جاسکتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کریم کی تلاوت سے۔جہاں متذکرہ بالا آیات اور احادیث سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت میں بہت بڑی برکت ہے۔وہاں یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ صرف الفاظ کی تلاوت گوموجب ثواب تو ہے۔لیکن اس تلاوت سے ہماری زندگی میں وہ عظیم الشان تغیر پیدا نہیں ہوسکتا۔جو انسانی تخلیق کی علت غائی ہے۔عربی زبان ہماری مادری زبان نہیں ہے۔اس لئے ہمیں بلاد عر بیہ کے مقابلہ میں دگنی محنت کی ضرورت ہے۔پہلی محنت جس کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کے الفاظ کے معنی سمجھ سکیں۔بلا د عر بیہ کے مسلمان اس محنت کے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔کیونکہ ان کی مادری زبان عربی ہے۔اور وہ ایک حد تک قرآن کریم کے معنی سمجھتے ہیں۔دوسری محنت جس کے ہم اور وہ لوگ جن کی مادری زبان عربی ہے۔برابر کے محتاج ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن شریف سے صوری اور معنوی اعراض نہ ہو۔صوری اعراض تو یہ ہے کہ قرآن شریف کی تلاوت کی ہی نہ جائے اور معنوی اعراض یہ ہے کہ تلاوت سے کماحقہ استفادہ نہ کیا جائے۔یہ ہر دو اعراض خطر ناک ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اور بنی اکرم ﷺ نے بھی ان سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَنَّا فَهُوَ لَهُ قَرِيْنٌ (الزخرف: 37) یعنی جو رحمن کے ذکر سے یعنی قرآن سے آنکھیں بند کرے گا۔ہم اس کے ساتھ شیطان کو لگا دیں گے کہ وہ اس کا رفیق ہوگا۔اس سلسلہ میں رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث بھی درج کی جاتی ہے۔