یادوں کے نقوش — Page 132
“ زبذل مال در راہش کسے مفلس نے گردد خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا 231 آپ جوں جوں راہ خدا میں خرچ کرتے چلے گئے خدا تعالیٰ آپ کا کفیل و مدد گار ہوتا گیا۔آپ کے اخلاص اور فدائیت کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو جماعت احمدیہ احمد نگر کے زعیم انصار اللہ اور سیکرٹری اصلاح وارشادا اور پھر آخر میں خدا تعالیٰ نے انہیں بحیثیت صدر جماعت کے بھی خدمات سرانجام دینے کی سعادت عطا فرمائی۔آپ 13 جولائی 1990ء کو جرمنی اپنے بچوں سلیم احمد ، بشارت احمد کے پاس تشریف لے گئے۔وہاں بھی جاتے ہی جماعتی کاموں کی انجام دہی میں بجت گئے۔آپ کے بیٹے سلیم احمد نے بتایا کہ آپ اپنے مقامی مرکز کے سیکرٹری تربیت مقرر ہوئے۔دعوت الی اللہ کا تو کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔چندہ جات میں اس قدر با قاعدہ تھے کہ ان کی وفات کے بعد جب وصیت کا حساب ہوا تو ایک پائی بھی بقایا نہ تھا۔بلکہ حصہ آمد اور حصہ جائیداد کی مد میں معین شدہ رقم سے بھی زائد اپنی زندگی میں جمع کروا چکے تھے۔اللہ کی راہ میں خرچ کے بارے میں آپ کے بیٹے جو مربی سلسلہ ہیں، نے بتایا کہ آپ حضرت امام جماعت احمدیہ کے اس ارشاد کی تعمیل میں کہ عید کے موقع پر اپنے مستحق بہن بھائیوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کیا کریں، ہر عید سے قبل بذریعہ فون مجھے ہدایت فرماتے کہ احمد نگر میں فلاں فلاں یتیم نادار اور بیوہ کو اتنی اتنی رقم دے دیں۔جس کی مجموعی رقم ہزاروں تک ہوتی آپ کی اس خاموش خدمت کا ان کی وفات کے بعد علم ہوا۔احمدنگر کی جماعت سے جرمنی جا کر بھی آپ نے قلبی ذہنی اور عملی رابطہ قائم رکھا آپ کو یہ احساس تھا کہ احمد نگر کی جماعت بفضل تعالیٰ کافی بڑی ہے جب کہ بیت الذکر ضرورت سے کم ہے۔انہیں بیت الذکر کو وسیع کرنے کا بہت احساس تھا۔چنانچہ اس “ 232 سلسلہ میں آپ نے جرمنی میں ایک مخلص مخیر احمدی دوست جن کا احمد نگر سے گہرا تعلق تھا کو بیت الذکر کی توسیع کی ترغیب و تحریک کی تو اس مخلص دوست نے مبلغ دولاکھ روپے کا گراں قدر عطیہ بھجوا دیا۔اللہ تعالیٰ انہیں احسن جزا عطا کرے۔اس طرح نیکی کی ترغیب دلا کر آپ کی نیکی کرنے والے بھائی کے ثواب میں برابر کے شریک ہو گئے۔آپ نے اپنی اولاد کی ( باوجود نامساعد حالات کے ) تعلیم و تربیت کی طرف کماحقہ توجہ فرمائی۔آپ کے بیٹے جو مربی سلسلہ ہیں، نے بتایا کہ جب میں جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم تھا تو محترم پرنسپل صاحب نے میری ایک غلطی پر سرزنش فرمائی۔نوعمری کی وجہ سے ان کی سرزنش طبیعت پر ناگوار گزری جس سے دل برداشتہ ہوکر احمد نگر آکر والد صاحب سے شکوہ کیا کہ معمولی سی بات پر پرنسپل صاحب نے سختی کی ہے۔محترم والد صاحب نے میری شکایت پر توجہ دینے کی بجائے استفسار فرمایا کہ کیا آپ رخصت لے کر آئے ہیں میں نے عرض کیا کہ نہیں۔فرمایا کہ رخصت کے بغیر کیوں آئے ہو۔فوراً واپس جاؤ۔والد محترم کی اس پر حکمت نصیحت کا مجھ پر گہرا اثر ہوا اور آئندہ زندگی کے لئے ایک کارآمد نصیحت ہاتھ آگئی۔عجب اتفاق ہے کہ آپ نے مورخہ 13 جولائی 1990ء کو احمد نگر سے جرمنی کے لئے رخصت سفر باندھا تھا اور مورخہ 13 جولائی 1993ء کو ٹھیک تین سال بعد آپ نے داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے سفر آخرت اختیار کیا۔آپ کے اس سفر میں خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل شامل حال رہا کہ بغیر کسی رکاوٹ یا تاخیر کے آپ کا جسد خا کی مورخہ 17 جولائی 1993ء صبح ساڑھے پانچ بجے احمد نگر لایا گیا۔جہاں صبح سات بجے کثیر تعداد میں احباب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی۔اس کے بعد آپ کا تابوت دار الضیافت کے مخصوص کمرہ میں بغرض انتظار لواحقین رکھا گیا۔اسی روز بعد نماز عصر بیت مبارک میں مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے