یادوں کے نقوش — Page 131
229 کٹائی کر کے اہل و عیال کے لئے رزق حلال مہیا کرتے رہے۔کثیر عیالداری اور پھر مالی حالت خستہ ہونے کے باعث ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اپنے بڑے لڑکے مسرور احمد کی تعلیم کا سلسلہ ختم کروا کر اس کو کہیں کام پر لگوادیں۔اس پر آپ نے بلا توقف فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں کروں گا۔خود محنت کروں گا لیکن بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دوں گا۔آپ کے عزم اور ہمت اور محنت شاقہ کے باعث آپ کا وہی بیٹا آج بفضل تعالیٰ بنک میں مینیجر ہے۔جب کہ دیگر بچوں کو بھی مناسب تعلیم دلوائی۔آپ میں اگر چہ بہت سی خوبیاں تھیں لیکن ان کی یہ خوبی مثالی رنگ رکھتی تھی کہ ہمیشہ فنافی الخلافت اور تابع نظام سلسلہ رہے۔عہد یداران جماعت کی اطاعت ذاتی پسند یا نا پسند سے ہمیشہ بال تھی جو بھی عہدیدار ہوتا اس سے تعاون اور اس کی اطاعت آپ کا طرہ امتیاز تھا۔1984ء میں ایک احمدی بھائی کا غیر از جماعت شخص سے زرعی پلاٹ کا تنازعہ ہو گیا۔معاملہ مقدمہ بازی اور پولیس تک پہنچ گیا۔جسے فریق ثانی نے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی (اگر چہ معاملہ خالصتاً ذاتی نوعیت کا تھا) کشیدگی میں اضافہ ہوا تو پولیس آفیسر نے نقص امن کے اندیشہ کے پیش نظر انسدادی کارروائی کے سلسلہ میں فریق ثانی اور جماعت مقامی سے کہا کہ ہر فریق اپنی مرضی سے 15-15افراد گرفتاری کے لئے پیش کرے۔خاکساران دنوں صدر جماعت تھا میں نے یہ معاملہ بغرض مشورہ احباب جماعت کے سامنے پیش کیا ہی تھا کہ سب سے پہلے مکرم طور صاحب نے رضا کارانہ طور پر گرفتاری کے لئے اپنا نام پیش کر دیا۔ان کی اس جرات مندانہ پیشکش پر دیکھتے ہی دیکھتے بیسیوں خدام انصار بلکہ اطفال تک نے بڑھ چڑھ کر اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ پولیس افسران کو صرف پندرہ نام پیش کئے گئے جن میں برادرم طور صاحب با اصرار شامل رہے۔آپ نے انتہائی جرات اور “ 230 بشاشت و ہمت کے ساتھ چند روز قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کی سعادت پائی۔آپ کی جرات کے باعث دیگر اسیران کے حوصلے قابلِ رشک حد تک بلند رہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ مکرم طور صاحب کا احمدی فریق سے نہ کوئی تعلق تھا نہ رشتہ داری ان کے پیش نظر تو صرف اور صرف الحب لله و البغض للہ تھا۔سال 1974 ء اور پھر 1984 ء کے ہنگامہ خیز ایام میں تو آپ خدمت سلسلہ کے لئے چوبیس گھنٹے وقف رہتے۔نامساعد حالات میں ان کی صلاحیتوں میں مزید نکھار آجاتا تھا۔مخالفین سلسلہ اور افسران بالا سے بات کرتے وقت اسلوب بیان نہایت سچا سچا صاف شفاف ہوتا۔حق بات بڑی جرات سے بغیر لگی پٹی ڈنکے کی چوٹ کہتے تھے۔مالی قربانی کے میدان میں تو آپ ہمیشہ (نیکیوں میں آگے بڑھو ) کا عملی نمونہ پیش کیا کرتے تھے۔وصیت کرنے کی سعادت تو سال 1945ء میں ہی پالی تھی۔آپ کے بیٹے عزیزم مشہود احمد صاحب مربی سلسلہ نے بتایا کہ آپ کا معمول تھا کہ شام کو جب دکان بند کرتے تو ہر روز کی آمدنی سے 1/10 حصہ حساب کر کے الگ نکال لیا کرتے تھے۔تحریک جدید میں نہ صرف با قاعدگی سے خود حصہ لیتے رہے بلکہ پیارے امام کی تحریک پر اپنے وفات یافتہ بزرگوں کے وعدہ جات کو بھی زندہ رکھے ہوئے تھے۔امید ہے کہ آپ کی مخلص اولاد اپنے والد محترم کی اس نیک روایت کو جاری وساری رکھے گی۔چندہ جات وقف جدید خود بھی اور اپنے بچوں سے بھی با قاعدگی سے دلواتے تھے۔اس کے علاوہ امام وقت یا مرکز سلسلہ کی طرف سے جو بھی مالی تحریک ہوتی برادرم طور صاحب کا اس میں حصہ لینا لازمی اور یقینی ہوتا۔مقامی ضرورتوں تعمیر احمد یہ ہال نیز مرمت بیت الذکر میں بھی خوب حصہ لیتے۔انفاق فی سبیل اللہ کے نیک عمل کے ثمرہ میں مکرم طور صاحب کے ابتدائی مالی تنگدستی کے ایام دیکھتے ہی دیکھتے فراخ دستی میں تبدیل ہوتے چلے گئے اور حضرت بانی سلسلہ کے شعر کی روشنی میں ؎