یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 111 of 137

یادوں کے نقوش — Page 111

189 روٹی کے باریک باریک ٹکڑے کر کے ڈالتے۔ہمیشہ صبح سویرے بے شمار چڑیاں چہچہاتی ہوئیں پہنچ جاتیں اور سیر ہو کر اڑ جاتیں۔ایک دفعہ آپ جارہے تھے کیا دیکھتے ہیں ایک تانگہ گھوڑا نالے میں گرا پڑا ہے جبکہ کو چوان بے بسی کے عالم میں کھڑا ہے کوئی بھی اپنا کام چھوڑ کر وقت نہیں دے رہا۔جب ہمارے بشیر بھائی پہنچے تو فورارک گئے۔ہر آنے جانے والے کو محبت بھرے لہجہ میں درخواست کرنی شروع کر دی۔جس کے نتیجہ میں بیسیوں افراد تعاون پر آمادہ ہو گئے اور چند لمحوں میں گھوڑے کو اذیت سے نجات دلائی جب گھوڑا تانگہ باہر نکل آیا تو تعاون کرنے والوں نے برادرم بشیر صاحب کو سمجھا کہ شاید یہ مالک ہیں کہنے لگے بابا مبارک ہو اب تو آپ خوش ہیں آپ نے فرما یا جزاکم اللہ میں آپ کا ممنون احسان ہوں۔آپ کو قرآن پاک کا بہت سا حصہ زبانی یاد تھا۔انتہائی خوش الحانی سے تلاوت کرتے اور بچوں کو قرآن پاک پڑھنے پڑھانے پر کافی توجہ اور وقت دیتے تھے۔آپ عبادت گزار درویش ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی باذوق شخصیت کے مالک بھی تھے فارسی ، عربی ، انگلش اور اردو پر خاصہ عبور تھا۔مهمان نوازی مہمان نوازی آپ کا طرہ امتیاز تھا۔مرکزی مہمانوں کی تو بے حد عزت و تکریم فرماتے اور بیت الذکر مشن ہاؤس میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ وقت دیتے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل محترم سید خالد احمد شاہ صاحب ناظر بیت المال تونسہ شریف گئے۔مکرم شاہ صاحب کی شخصیت سے آپ بے حد متاثر ہوئے۔ان کی خدمت میں حاضر رہے۔مرکزی وفد چونکہ ویگن میں تھا ان کی روانگی سے چند منٹ پہلے آپ بس سٹاپ پر پیدل پہنچ گئے۔جب معزز مہمانوں کی گاڑی قریب پہنچی تو ہاتھ دے کر روکا “ 190 اور عرض کیا کہ الوداع کہنے آیا ہوں۔ساتھ ہی سب مہمانوں کو تو نسہ کا مشہور سوہن حلوہ پیش کرتے ہوئے کہا تحفہ درویش قبول فرماویں۔آپ کی زندہ دلی اور وسعت نظر کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے سب کے لئے الگ الگ تحفہ پیش کیا۔آپ کی وفات کا جب محترم شاہ صاحب کو علم ہوا تو باوجود والدہ محترمہ کی بیماری اور شدید گرمی کے دارالضیافت تشریف لائے۔چہرہ دیکھا جو باوجود لمبی مسافت اور کافی وقت گزرنے کے بعد بھی پھول کی طرح کھلا ہوا تھا۔آپ انتہائی متوکل انسان تھے۔آپ ہمیشہ فرماتے خدا داری چہ غم داری۔آپ کے تو کل علی اللہ کا صرف ایک واقعہ ہدیہ ناظرین ہے۔لاہور میں ایم۔ایڈ کی ٹرینگ کے سلسلہ میں گئے۔بیت الذکر میں قیام تھا۔شام کو مطالعہ کے لئے ایک پارک میں تشریف لے گئے۔ایک کتاب میں مبلغ 700 روپے رکھے ہوئے تھے۔مطالعہ میں مصروف تھے کہ تین نو جوان آپ کے پاس آگئے۔مطالعہ کے بہانے ایک نے وہ کتاب اٹھالی جس میں آپ کی کل پونچی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد سب کے سب چلتے بنے۔آپ کو جب رقم کی ضرورت پڑی چیک کیا تو رقم غائب تھی۔آپ انتہائی خود دار اور متوکل انسان تھے کسی سے مانگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔آپ نے دعا شروع کر دی۔اے اللہ مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا تو ہی مسبب الاسباب ہے تو ہی میری کفالت فرما۔دوسرے دن دارالذکر میں ایک پولیس والا آیا اور کہا کہ آپ کو ایس ایچ او صاحب بلا رہے ہیں۔آپ تھانہ تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں وہ تینوں نوجوان پولیس کی حراست میں ہیں۔SHO نے وہ کتاب جس پر ایڈریس لکھا ہوا تھا اور 700 روپے آپ کے حوالے کر دیئے جس پر آپ نے شکریہ ادا کیا۔پولیس کی طرف سے اس قسم کا مثبت رویہ نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔دراصل یہ آپ کے غیر معمولی تو کل کا ثمر تھا۔