یادوں کے نقوش — Page 110
187 جسے بعد میں کوئی نہ توڑ سکا۔آپ انتہائی دیانتدار اور امانتوں کی حفاظت کرنے والے تھے جو محکمہ تعلیم میں اپنی مثال آپ تھے۔جب آپ ہوٹل سپر نٹنڈنٹ تھے تو طلباء اپنی سیکورٹی اور نقدی وغیرہ آپ کے پاس جمع کرواتے تھے۔آپ ہر طالب علم کی نقدی الگ الگ لفافے میں ڈال کر اس پر طالب علم کا نام جتنی رقم ہوتی وہ لکھ دیتے۔جب طالب علم واپس طلب کرتا تو اس کو بعینہ وہی رقم واپس کرتے جو اس نے جمع کروائی ہوتی۔اس میں سے ایک پائی بھی عارضی طور پر خرچ نہیں کرتے تھے۔مخالفین کا اعتراف آپ کی دیانتداری محنت ، طلباء سے ہمدردی کا چر چا زبان زد عام ہوا۔اپنے تو اپنے بیگانے بھی آپ کے مداح تھے۔ایک دفعہ ایک معروف مخالف معاند سلسلہ مولوی نے ہیڈ ماسٹر صاحب کو فون کیا کہ آپ کے تمام اساتذہ کام چور ہیں میں سب کا تبادلہ کر دوں گا ما سوائے ماسٹر بشیر احمد صاحب کا کہ وہ ہیں تو قادیانی لیکن ہیں انتہائی محنتی اور فرض شناس اَلفَضُلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْاَعْدَاءَ - آپ محض خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضل اور اپنی دیانتداری محنت اور فرض شناسی کے باعث نہ صرف طلباء اسا تذہ بلکہ افسران بالا کی نگاہ میں بھی اپنی قابلیت اور بہترین نتائج کے باعث منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ محکمہ پنجاب نے صوبہ میں سے دواسا تذہ کو پی۔ایچ۔ڈی کرانے کے لئے نامزد کیا جس میں ایک بشیر احمد صاحب تھے۔خدمت والدین کی قابل تقلید مثال جب آپ کو محکمہ کی طرف سے اس کی باضابطہ اطلاع ملی اس پر آپ نے جو “ 188 جواب دیا وہ آپ کی والدین سے غیر معمولی عقیدت اور خدمت کی روشن مثال ہے۔آپ نے لکھا کہ خاکسار والدین کا اکلوتا بیٹا ہے والدہ صاحبہ پہلے وفات پاچکی ہیں جبکہ میرے والد محترم صاحب فراش ہیں۔مجھے ان کی خدمت اور عیادت کی سعادت مل رہی ہے۔ان حالات میں پی ایچ ڈی کے لئے جانا ناممکن ہے۔آپ کی عادت تھی رات کو سفر کرنے کو ترجیح دیتے۔وسائل کی کمی کے باعث آپ اپنی ملازمت کے دوران جتنا پیدل چلے ہیں شائد ہی کوئی ملازم اتنا چلا ہو۔مثالی فرض شناسی آپ جب واہوا میں تعینات تھے جو تونسہ شریف کے شمال کی جانب تقریباً 75 کلومیٹر پر واقع ہے سکول جانے کے لئے گاؤں سے پیدل تو نسہ پہنچے تو آخری بس وا ہوا جا چکی تھی۔شام کے پانچ بج چکے تھے سکول سے غیر حاضری کا تو آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔احساس فرض نے انہیں پیدل سفر کرنے پر مجبور کر دیا۔چنانچہ آپ نے اپنے معمول کے مطابق اپنے سامان کی گٹھڑی کاندھے پر ڈالی اور پیدل چل دیئے اور صبح نو بجے سکول پہنچ گئے۔مخلوق خدا سے ہمدردی آپ نہ صرف انسان دوست تھے بلکہ ہر ذی روح کی تکلیف پر آپ کا دل تڑپ اٹھتا تھا۔آپ کے ہمسائے تین یوم کے لئے کہیں باہر گئے تو بیرونی چابی آپ کو دے گئے۔اچانک ہمسائے کے گھر سے بلی کے بلبلانے کی آواز میں آنے لگیں۔آپ فور ا پنچے کیا دیکھتے ہیں کہ بلی اندر کمرہ میں بند ہے جبکہ کمرہ مقفل تھا۔آپ تین دن صبح و شام بلی کو پلیٹ میں دودھ ڈال کر دروازے کے نیچے سے پلاتے رہے۔آپ کا معمول تھا کہ صبح کی نماز اور تلاوت کے بعد باقاعدگی سے چڑیوں کو