یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 112 of 137

یادوں کے نقوش — Page 112

نماز تہجد 191 آپ باقاعدگی سے نماز تہجد کے لئے دو بجے شب اٹھ کھڑے ہوتے اور نماز فجر کی اذان تک نوافل ادا کرتے۔جب آپ کی صحت خراب ہوتی تو گھر والے آپ کو آرام کا مشورہ دیتے تو آپ فرماتے سفر بہت لمبا ہے وقت کم ہے۔میرا آرام میرا سکون نمازوں میں ہی ہے۔نماز تہجد میں با قاعدگی کے لئے آپ زیادہ آرام دہ بستر پر کبھی نہ سوتے تھے۔آپ سر کے نیچے تکیہ کی بجائے بوری کو تہہ کر کے رکھ لیتے جبکہ چار پائی پر چٹائی بچھا کر اس پر سوتے۔دوران سفر یا دوران ملازمت جس بیت الذکر کو غیر آباد پاتے اسے اپنی نمازوں سے آباد کرتے آپ ہمیشہ سفر آخرت کو یا در کھتے اور اکثر کہتے زندگی بلبلہ ہے پانی کا کیا بھروسہ ہے زندگانی انفاق فی سبیل اللہ کا آپ جماعت کی تمام مالی تحریکوں میں بشاشت سے حصہ لیتے۔جب کوئی گھر میں بیمار ہو جاتا تو دعا کے ساتھ فوری سیکرٹری صاحب مال کی خدمت میں حاضر ہوتے۔مریض کے نام کا صدقہ دے کر اس کی رسید حاصل کرتے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے ریکارڈ میں سے بے شمار صدقات کی رسیدیں ملی ہیں رشتہ داروں میں یا غیروں میں کوئی بیمار یا غرض مند ہوتا تو آپ خاموشی سے اس کی مالی خدمت کرتے جس کا دوسرے ہاتھ کو بھی علم نہ ہونے دیتے۔برادرم منیر احمد خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے بخار ہو گیا اور باوجود علاج کے مرض بڑھتا گیا۔برادرم بشیر احمد خان صاحب میری عیادت کرنے والوں میں سب سے زیادہ آئے۔ایک دفعہ دعا “ کے علاوہ معقول رقم دے گئے۔192 میری معذرت پر بڑی محبت سے فرمایا بھائی آپ کی بیماری لمبی ہوگئی ہے۔ނ علاج معالجہ پر کافی خرچ ہوتا ہے یہ قبول فرما کر مجھے ثواب کا موقع دیں۔آپ کو علم ہوا کہ بستی مندرانی میں ایک غیر از جماعت غریب گھرانہ ہے جس کا واحد ذریعہ معاش اس کا اونٹ تھا جو مر گیا ہے۔آپ فورا گھر پہنچے اظہار ہمدری کیا اور آتی دفعہ معقول رقم دی جس سے متاثرہ کنبہ حیران ہو کر رہ گیا کہ اس طرح کسی نے بھی ہماری مدد اور ہمدردی نہیں کی۔اس کتبہ کو جب آپ کی وفات کا علم ہوا تو وہ تعزیت کے لئے آئے۔خاتون خانہ ان کی اس نیکی اور حسن سلوک کا آبدیدہ ہو کر ذکر خیر کرتی رہی۔آپ کے بھانجے عزیزم مکرم محمود احمد خان ایاز نے بتایا کہ آپ با قاعدگی۔عید الاضحی پر نہ صرف خود قربانی کی توفیق پاتے بلکہ عید سے قبل تمام رشتہ داروں خصوصاً تنخواہ دار ملازمین کے پاس فرد فرد حاضر ہوتے اور قربانی کی ترغیب دیتے۔جب وہ کہتے کہ قربانی تو ضرور کرنی ہے فی الحال تنخواہ نہیں ملی۔آپ فرماتے تنخواہ کی وجہ سے قربانی کی سعادت سے محروم نہ ہوں میں ادا ئیگی کر دیتا ہوں۔چنانچہ سب ملازم بھائی اور عزیز آپ کی پیشکش کے طفیل قربانی کرنے کی توفیق پاتے۔ایفائے عہد امسال قربانی کے لئے گائے خریدنے کے سلسلہ میں تونسہ شریف سے 10/12 کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں گئے۔ایک گائے کا سودا طے پا گیا جب آپ گھر گائے لے کر چلنے لگے تو غریب فروخت کنندہ نے عاجزانہ رنگ میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر چہ سودا طے ہو چکا ہے میرا حق تو نہیں بنتا اگر ممکن ہو تو قربانی کے بعد گائے کا رسہ اور اس کے گلے میں جو گانی ہے وہ اگر مجھے واپس کر دیں تو ممنون