یادوں کے نقوش — Page 109
185 مرکز ہوتا۔آپ پڑھانے کے لئے غریب طالب علم کی کتاب لیتے پڑھانے کے بعد اس میں کچھ نقدی رکھ دیتے۔پہلی دفعہ طالب علم سمجھتا کہ غلطی سے ماسٹر صاحب کی رقم رہ گئی ہے۔جب اس کو اپنی طرف آتا دیکھتے تو اس کو الگ لے جاتے پیار سے سمجھاتے کہ یہ تمہاری تعلیم کے اخراجات کے لئے ہیں۔زندگی بھر جہاں پڑھایا غریب طالب علم ہمیشہ آپ کی ذاتی توجہ اور مالی اعانت کا مرکز رہا۔ماتحت پروری آپ ایک سکول کے انچارج مقرر ہوئے۔سکول کا ایک مددگار کار کن انتہائی غریب تھا۔آپ گاؤں سے جب پڑھانے کے لئے سائیکل پر آتے۔راستہ میں لکڑیاں اکٹھی کر کے سائیکل کے پیچھے باندھ کر سکول کے مددگار کارکن کے گھر پہنچا دیتے جس سے مفلس کا رکن نے حیران ہو کر عرض کیا سر آپ مجھے شرمندہ کیوں کرتے ہیں فرماتے آپ بڑے بھائی ہیں آپ کی آمدنی کم ہے جبکہ میرا اس پر کچھ خرچ نہیں ہوتا اس لئے آپ قطعا محسوس نہ کریں اور مجھے اس ثواب اور خدمت سے محروم نہ کریں۔آپ نے بحیثیت استاد کسی طالب علم کو ٹیوشن کبھی نہیں پڑھائی اور نہ ہی کسی طالب علم یا ما تحت سے کسی قسم کا مفاد یا مراعات حاصل کیں۔فرائض کی ادائیگی میں لگن آپ جب اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر تھے آپ کو کوہ سلیمان کے اندر کا علاقہ دیا گیا جہان شاذ ہی کوئی افسر جاتا تھا کیونکہ بیسیوں میل کی مسافت پیدل طے کرنا ہوتی۔آپ کی تعیناتی کا علم جب ایک ایسے استاد کو ہوا جو آپ کا شاگر درہ چکا تھا اس نے تمام اساتذہ کو بتایا کہ بشیر صاحب انتہائی محنتی اور دیانتدار ہیں وہ ہر سکول تک پہنچیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ ہر سکول تک پہنچے۔آپ کا ریکارڈ تھا کہ کسی ماتحت “ 186 یا طالب علم سے کھانا تک نہ کھاتے۔آپ ہمیشہ اپنے ساتھ دال آٹا نمک اور بسکٹ وغیرہ رکھتے۔حالات کے مطابق کہیں خود پکاتے یا ہوٹل سے استفادہ کرتے۔دیانتداری کے ساتھ ساتھ مزاج میں خود نمائی کا شائبہ تک نہ ہوتا۔اپنے ماتحتوں کو محبت اور پیار سے سمجھاتے اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی نصیحت فرماتے۔عجز وانکسار آپ ایک سکول کے معائنہ کے لئے تشریف لے گئے۔نماز کا وقت آیا آپ نماز ادا کر رہے تھے کہ استاد نے ایک طالب علم کو کہا کہ صاحب کی جوتی صاف کر دیں۔آپ جب جوتی پہننے لگے تو جوتی کوصاف پا کر استفسار کیا کہ یہ کس نے صاف کی ہے بتایا کہ ریاض حسین نے صاف کی ہے۔آپ نے اس طالب علم کو بلایا اور پیار سے فرمایا۔آپ نے کیوں تکلیف کی ہے بیٹا آپ اپنی جوتی دیں میں آپ کی جوتی صاف کر دوں۔آپ کے اس محبت بھرے رد عمل سے طلبا اور اساتذہ انتہائی متاثر ہوئے۔ڈیرہ غازی خان کے سکول میں ہوٹل سپرنٹنڈنٹ تھے۔ہوٹل کا ٹیوب ویل خراب ہو گیا۔پانی نہ ہونے کے باعث طلبا سخت پریشان ہوئے۔صبح سویرے جب طلباء اٹھے دیکھا کہ پانی کے تمام مشکے لبالب بھرے ہوئے ہیں۔وہ حیران ہوئے کہ ٹیوب ویل تو خراب ہے پانی کہاں سے اور کون لایا ہے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ رات گئے جب میری آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہوں کہ مندرانی صاحب واپڈا کالونی کے ٹیوب ویل (جو ایک کلومیٹر کی مسافت پر ہے) سے تنہا کندھے پر گھڑے لا کر مٹکوں میں ڈال رہے تھے۔امانت و دیانت آپ سے قبل ہوٹل میں طلباء کے کھانے کافی گس خرچ دو روپے آتا تھا۔جب بطور سپرنٹنڈنٹ طلباء کے کھانے کی ذمہ داری آپ پر پڑی تو آپ کی محنت و دیانتداری سے فی کس خرچ چند آنوں تک پہنچ گیا تھا۔آپ کا یہ ریکارڈ ضرب المثل رہا