یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 72 of 117

یادوں کے دریچے — Page 72

سفر کے لئے غیبی امداد 72 اس سفر کے اخراجات کے لئے ایک غیبی امداد کا ذکر آپ نے ان الفاظ میں فرمایا: ” جب میں 1924ء میں انگلینڈ گیا تھا تو ہندوستان کی مالی حالت بہت خراب تھی اور ہندوستانی جماعت اخراجات سفر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے افریقہ اور عرب کی جماعتوں کے اندر اس قد را خلاص اور ایمان پیدا کر دیا کہ سارے قافلے کے کھانے اور تبلیغ کا خرچ میں ادا کرتا تھا یا یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے ادا کرتا تھا۔واقعہ اس طرح ہوا کہ میں نے مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ایسٹ افریقہ کے چند دوستوں کو لکھا کہ مجھے سفر کی ضرورتوں اور جماعت کے وفد کے اخراجات کے لئے کچھ انگریزی سکہ قرض کے طور پر دے دیں۔( نوٹ : ایک حصہ قرض آپ نے اپنے ذاتی اخراجات کے لئے لیا تھا اور ایک وفد کے اخراجات کے لئے۔جماعتی قرض جماعت نے واپس کیا تھا اور ذاتی قرض آپ نے ( مگر اس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جو خدا کی قدرت کا نمونہ تھا۔عراق میں ہمارے صرف ایک احمدی دوست تھے اور ان کی مالی حالت کچھ اچھی نہیں تھی۔میں نے ان کو بھی خط لکھا۔انہوں نے اپنے کسی اور دوست سے ذکر کر دیا۔ایک دن لندن کے ایک بنک نے مجھے اطلاع دی کہ تمہارے نام اتنے سو پونڈ آیا ہے۔میں نے سمجھا کہ قادیان نے مبلغین کے قافلہ کا خرچ بھجوایا ہے۔لیکن دریافت کرنے پر بنک نے بتایا کہ قادیان یا ہندوستان سے وہ روپیہ نہیں آیا بلکہ عراق سے آیا ہے۔میں نے بیت المال قادیان کو اطلاع دی کہ آپ لوگوں نے قرض کی تحریک کی تھی اور میں نے بھی اس کی تصدیق کی تھی اس سلسلہ میں روپیہ آنا شروع ہوا ہے۔آپ نوٹ کر لیں کیونکہ بعد میں ادا کرنا ہے۔عراق کا پتہ ان کو بتا دیا کہ یہاں سے اتنے سو پونڈ آیا۔جب میں ہندوستان واپس آیا تو میں نے اس وقت کے ناظر صاحب بیت المال سے کہا کہ کیا اس روپیہ کا پتہ لیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رجسٹریاں لکھ لکھ کر تھک گئے ہیں