یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 73 of 117

یادوں کے دریچے — Page 73

73 سارے احمدی انکاری ہیں کہ ہم نے روپیہ نہیں بھیجا۔میں نے اس سعید غیر احمدی کو خط لکھنے شروع کئے کہ اتنا روپیہ آپ کی طرف سے ملا ہے۔یہ غالباً اسی قرضہ کی تحریک کے نتیجہ میں ہے جو بیت المال کی طرف سے کی گئی تھی۔آپ اطلاع دیں تا کہ سلسلہ اس کو اپنے حساب میں درج کرے۔لیکن کئی ماہ مسلسل رجسٹری خطوط بھیجوانے کے بعد ایک جواب آیا اور وہ جواب یہ تھا کہ آپ کو غلطی لگی ہے کہ میں نے سلسلہ احمدیہ کو کوئی قرض دیا ہے۔چھ سو یا آٹھ سو پونڈ انہوں نے لکھے کہ میں نے لنڈن بنک کے ذریعہ آپ کو بھجوائے تھے مگر وہ بیت المال کو قرض نہیں بھجوائے تھے بلکہ آپ کو نذرانہ تھے۔اس خط کے وصول ہونے پر میری حیرت کی حد نہ رہی۔مگر بہر حال چونکہ وہ سلسلہ کے لئے مدنظر تھا اور وہ بھیجنے والا غیر احمدی تھا اس لئے میں نے نوٹ کر لیا کہ یہ روپیہ سلسلہ کا ہے اور مسجد لنڈن کے حساب میں میں نے وہ رقم بنک میں جمع کرادی۔بہر حال اس طرح میں بھی اپنے قرض سے سبکدوش ہوا اور خدا تعالیٰ نے خانہ خدا ، خانہ کفر میں بنوانے کی توفیق بخشی۔اس نے وہ نذرانہ بھیج کر مجھ پر احسان کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میں اس کے احسان کی قدر اس صورت میں ظاہر کروں کہ وہ روپیہ خانہ خدا کے بنانے پر خرچ ہو جائے۔نیز فرمایا کہ ” جب 1924ء میں میں نے لندن کا سفر کیا تھا تو اس قدر مالی تنگی ہو گئی تھی کہ تبلیغ کے لئے جو وفد گیا تھا اس کا خرچ بھی مجھ کو ہی دینا پڑا تھا۔“ سفر انگلستان اور یورپ ویمبلے ہال میں آپ کا یہ لیکچر غیر معمولی دلچسپی سے سنا گیا اور سارے انگلستان میں اس کا چرچا ہوا اور بڑی تعریف کی گئی۔سلسلہ کے ایک بے لوث خادم اور خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت رکھنے والے بزرگ مولوی عبد الرحیم درد صاحب نے کانفرنس میں ابا جان کی تقریر کے بعد واپس جائے رہائش پر آ کر مجھے خط لکھا۔یہ خط 1924-9-17 کا تحریر کردہ ہے جس کا متعلقہ حصہ درج ہے: ” ہم ابھی ہال سے واپس آئے ہیں۔آج کا جلسہ بہت کامیاب ہوا ہے۔الحمد للہ۔میرے خیال میں سو کے قریب انگریز اس جلسہ میں آئے حالانکہ عام طور پر دس بارہ لوگ