یادوں کے دریچے — Page 71
71 کی گئی کہ یہ سفر اعلائے کلمتہ اللہ اور اسلام کی سربلندی کے لئے کیا جارہا ہے اس لئے اس کے اخراجات جماعتی فنڈ سے قبول فرما ئیں لیکن ایک نہ مانی اور اپنے خرچ پر ہی تشریف لے گئے۔چونکہ فوری طور پر اخراجات سفر کے لئے رقم مہیا کرنے میں مشکلات تھیں اس لئے آپ نے ذاتی اخراجات سفر کے لئے بعض احباب سے قرض حاصل کیا۔ان احباب میں سے ایک مخلص احمدی سیٹھ شیخ حسن صاحب تاجر یاد گیر بھی تھے۔سیٹھ صاحب کے نام اپنے قلم سے ابا جان نے جو خط لکھا اس کا متعلقہ حصہ آپ کے الفاظ میں درج کر رہا ہوں : مکر می سیٹھ صاحب السلام علیکم آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ ولایت میں ایک مذہبی کا نفرنس ہونے والی ہے اس موقعہ پر مجھے بھی انہوں نے دعوت دی ہے۔میں نے بھی مذہبی کا نفرنس کی خاطر نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ مغربی ممالک کی تبلیغ کا کام ، انتظام بغیر خود جا کر مشورہ کرنے کے نہیں ہوگا۔یہ فیصلہ کیا ہے کہ خود جا کر حالات کا مطالعہ کروں اور تین چار ماہ کے دورے سے آئندہ کی تبلیغ کے متعلق پورے مشورے سے ایک مکمل سکیم تجویز کروں۔میں نے اپنی پہلی عادت کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ گو جماعتہائے احمدیہ کے مشورہ سے اور ان کی تحریک پر میں جاتا ہوں اور تبلیغ کا یہ کام ہے مگر میں اپنی ذات کا بوجھ جماعت پر نہ ڈالوں اور اس کے لئے میں نے اپنی ایک جائیداد کے فروخت کرنے کے لئے کہا ہے مگر چونکہ اس کے فروخت کرنے میں کچھ دیر لگے گی میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ میں چھ سات دوستوں سے کچھ رقم بطور قرض لے لوں اور پھر اس کو ادا کر دوں۔اگر آپ بھی ایک حصہ رقم کا بطور قرض دے سکیں ، مجھے بھیج دیں۔انشاء اللہ ایک سال تک واپس کر دوں گا۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ قرض بھی آپ کے لئے موجب ثواب ہو گا۔خاکسار مرز امحمود احمد