یادوں کے دریچے — Page 70
70 ذاتی اور جماعتی اخراجات میں تقویٰ کا معیار پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں ایک رجسٹر رکھا جاتا تھا جس میں روزانہ کے سائر اخراجات درج کئے جاتے تھے اور ابا جان دوسرے روز یہ رجسٹر آپ چیک کیا کرتے تھے۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کوئی خرج ضرورت سے زائد یا بلا ضرورت تو نہیں کیا گیا۔ایک دن یہ رجسٹر آپ چیک کر رہے تھے کہ آپ کی نظر ایک لفافہ کے ٹکٹ خرچ کے اندراج پر پڑی۔یہ خط آپ نے اپنے ایک لڑکے کے نام لکھا تھا۔آپ نے اسی وقت کلرک کو بلا کر سرزنش کی کہ یہ میرا ذاتی خط تھا یہ جماعت کے حساب میں کیوں درج کیا گیا۔اسی وقت رجسٹر پر سے اس کو کاٹ کر رقم ادا کر دی۔چند پیسے ہی ہوں گے مگر جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں آپ اپنی ذات پر یا اپنے خاندان پر جماعت کے ایک پیسہ کا خرچ بھی برداشت نہ کرتے۔صرف اخراجات کے متعلق ہی نہیں اپنے بچوں کو جماعت کے کسی کارکن سے کام کروانے کی اجازت آپ نے کبھی نہ دی۔مثال کے طور پر ایک واقعہ جو میری موجودگی میں ہوا لکھ رہا ہوں : آپ مع چندا فراد خاندان سندھ کی اراضیات کے دورہ پر تشریف لے گئے۔ان دنوں میرا قیام ناصر آباد فارم میں ہی تھا۔ایک روز نماز مغرب کے بعد آپ واپس گھر آئے ہی تھے کہ باہر سے ایک پہریدار نے ملازم کو آواز دے کر کہا کہ بوٹ پالش کر دیئے ہیں لے جاؤ۔آپ اس وقت صحن میں ٹہل رہے تھے فوراً پوچھا کہ یہ کس کے بوٹ ہیں۔ہماری ایک چھوٹی بہن جو کم سن تھی نے کہا کہ میرے ہیں ، میں نے پالش کرنے کے لئے دیئے تھے۔یہ سن کر آپ اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ پہریدار جماعت کے ملازم ہیں اور جماعت ان کو تنخواہ دیتی ہے۔تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔جماعت کے کارکن سے کام کروانے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔1924ء میں’The Conference of living Religions London“ میں شمولیت اور اسلام کی نمائندگی کرنے اور اسلام پر تقریر کرنے کے لئے کانفرنس کے کار پردازوں کی طرف سے دعوت نامہ ملا جو آپ نے قبول کر لیا اور انگلستان تشریف لے گئے۔(اس سفر کی تفصیل ”سوانح فضل عمر میں یقیناً آچکی ہوگی ) آپ نے فیصلہ فرمایا کہ اپنے اور اپنے دو ذاتی مددگاروں کے جملہ اخراجات خود برداشت کریں گے۔جماعت کے سرکردہ احباب کی طرف سے درخواست بھی