یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 69 of 117

یادوں کے دریچے — Page 69

69 کی۔احرار اس مخالفت میں پیش پیش تھے اور اعلان کیا کہ ہم جماعت احمدیہ کے امام کوکسی صورت میں افتتاح نہیں کرنے دیں گے اور بہت خون خرابہ ہوگا۔اس پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد نے جو انگریز تھا جماعت کے سرکردہ احباب کو بلا کر کہا کہ شدید مخالفت کی وجہ سے امنِ عامہ میں خلل کا امکان ہے اس لئے آپ فی الحال یہ افتتاح ملتوی کر دیں۔جماعت کی طرف سے حضرت ابا جان کو جب اس امر کی اطلاع دی گئی تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا اور جماعت فیصل آباد پر واضح کر دیا کہ مقررہ تاریخ پر ہی افتتاح کیا جائے گا اور میں خود آ کر افتتاح کروں گا۔چنانچہ آپ فیصل آباد تشریف لے گئے اور بیت الذکر کا افتتاح فرمایا۔یہ واقعہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ یہ آپ کے اولوالعزم ہونے کی ایک مثال ہے ور نہ سینکڑوں بار جماعت نے آپ کی ذات والا صفات کا یہ رُخ دیکھا ہے۔مردم شناسی آپ میں مردم شناسی کا غیر معمولی ملکہ تھا۔اس کے ثبوت میں کسی فلسفیانہ دلیل کی ضرورت نہیں۔آپ کی خلافت میں جماعت کا نظام جن مضبوط بنیادوں پر قائم ہوا وہ اس امر پر شاہد ہے۔جماعتی اموال کی حفاظت اور سنبھال میں بڑے حساس تھے اور گہری نظر اور نگرانی رکھتے کہ جماعت کا ایک پیسہ بھی غیر ضروری اور غلط جگہ خرچ نہ ہو۔نیز اپنی ذات پر یا اہل وعیال پر جماعتی اموال میں سے کسی بھی خرچ کو برداشت نہ کرتے۔آپ کے ذاتی نمونہ کی چند مثالیں لکھ رہا ہوں۔ایک مرتبہ ڈلہوزی پہاڑ پر موسم گرما کے چند ماہ گزارنے کے لئے قیام فرما تھے۔یہاں پر انگریز فوج کا اڈہ تھا۔اس کے کمانڈنگ آفیسر جو ایک انگریز جنرل تھے نے آپ سے ملاقات کی خواہش کی۔آپ نے ان کو شام کی چائے کی دعوت پر مدعو کیا۔کھانے پینے کا کچھ سامان جو بچ گیا وہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے ابا جان کی جس کو ٹھی میں رہائش تھی وہاں بھجوا دیا ( یہ ذکر بھی کر دوں کہ ان سفروں کے دوران جو بھی کوٹھی آپ اپنی رہائش اور اپنے خاندان کی رہائش کے لئے کرایہ پر لیتے اس کا جملہ خرچ خود ادا فرماتے تھے ) آپ نے اسی وقت وہ سب سامان واپس بھجوا دیا اور پرائیویٹ سیکرٹری کو بلا کر ناراض ہوئے کہ جماعت کے روپیہ سے جو سامان خریدا گیا ہے وہ مجھے کیوں بھجوایا گیا۔یہ عملہ کے افراد میں تقسیم کر دیں۔