یادوں کے دریچے — Page 68
یادوں کے در بیچے 68 انتخاب موقعہ اور محل کے مطابق ہوتا۔جو ہر شناسی کا یہ ملکہ بہت کم لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے۔جو شخص جس کام کے اہل ہوتا اس کے سپر د کام کرتے۔اس کی ایک مثال جو میرے علم میں ہے ذکر کر دیتا ہوں۔کشمیر کمیٹی کے صدر ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں پر بہت سے مظالم روا ر کھے جا ر ہے تھے اور مسلمانانِ کشمیر اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم تھے۔بعض مسلمان زعماء نے کشمیر کمیٹی کا انعقاد کیا اور ابا جان کو اس کا صدر منتخب کیا۔آپ نے فوری کام شروع کر دیا اور جماعت کے متعدد افراد کو اس مہم کو شروع کرنے کے لئے کشمیر بھجوا دیا۔یہ احباب مختلف وفود کی شکل میں بھجوائے جاتے تھے۔ایک وفد جو دو افراد پر مشتمل تھا ان میں سے ایک صاحب جماعت کے علماء میں سے تھے اور دوسرے ایک نو جوان۔مولوی صاحب کے سپر د کشمیر میں احباب جماعت کو بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار کرنا تھا اور اس نوجوان طالب علم کے سپر د سیاسی نوعیت کا کام تھا۔مولوی صاحب کو ابا جان نے اسلامی تعلیم کے مطابق امیر قافلہ مقرر فرمایا۔سرینگر پہنچنے کے چند دن بعد ہی انہوں نے ابا جان کی خدمت میں خط لکھا کہ یہ نو جوان نمازوں میں سستی کرتا ہے اس کو واپس بلا لیں۔یہ خط ملنے پر ابا جان نے ان کو ہدایت بھجوائی کہ آپ دونوں قادیان واپس آجائیں۔ان کے قادیان پہنچنے پر دونوں کو دفتر بلا کر فرمایا اس وقت مسلمانان کشمیر پر ایک انتہائی دکھ کا دور ہے اور اس نوجوان نے بہت اچھا کام کیا ہے جس کے خوش کن نتائج نکل رہے ہیں یہ تو بہر حال کشمیر جائے گا اور کام جاری رکھے گا اور اس طالب علم کو مخاطب ہو کر فر مایا کہ تم فوری طور پر اپنے کام پر واپس چلے جاؤ۔نیز فرمایا کہ نمازوں میں سستی ٹھیک نہیں آئندہ اس کا خیال رکھنا۔اولوالعزمی لائل پور (فیصل آباد) کی بیت الذکر کی تکمیل پر جماعت فیصل آباد نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ بیت الذکر کا افتتاح فرمائیں۔جو آپ نے منظور فرمائی ، تاریخ مقرر ہوگئی۔جب غیر از جماعت لوگوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے جلسے جلوس کر کے اس کی مخالفت