یادوں کے دریچے — Page 5
5 کچھ مصنف کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب سابق صدر مجلس انصاراللہ مرکز بی، سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی کے فرزندار جمند ہیں۔آپ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحب المعروف اُمّم ناصر کے بطن سے 1914 ء میں پیدا ہوئے اور 21 جون 2004 ء کو فعال خدمت دین سے بھر پور زندگی گزار کر 90 سال کی عمر میں اپنے مولا حقیقی کو جاملے۔آپ کی شادی محترمہ آمنہ طیبہ صاحبہ بنت حضرت نواب عبداللہ خاں صاحب سے ہوئی۔بطور واقف زندگی مختلف خدمات کے بعد آپ تحریک جدید میں وکیل الزراعت مقرر ہوئے۔بعد ازاں وکیل الصنعت ، وکیل التجارت، وكيل الديوان، وكيل التبشير ، وکیل اعلیٰ اور صدر مجلس تحریک جدید کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔تنظیمی سطح پر صدر مجلس انصار اللہ مرکز یہ جیسے اہم عہدے پر فائز رہ کر لمبا عرصہ جلیل القدر خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔مجلس انصاراللہ میں آپ کی خدمات کا آغاز 1957ء میں بطور قائد اصلاح وارشاد ہوا۔1959ء میں قائد خدمت خلق و ایثار رہے اور 1960ء سے 1968 ء تک حضرت مرز ناصر احمد صاحب صدر مجلس کے بطور نائب صدر مجلس انصاراللہ خدمات بجالاتے رہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے مسند خلافت پر فائز ہونے کے بعد 1969ء میں آپ کو صدر مجلس نامزد فرمایا اور آپ نے یہ اہم ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے 1978 ء تک نبھائی۔تاریخ انصار اللہ جلد اول صفحہ 312-319) آپ کے دور صدارت میں مجلس انصار اللہ کی تنظیم نو ہوئی۔کام بڑھنے کے پیش نظر بعض نئی قیادتیں بھی قائم ہوئیں۔آپ نے انصار کی تنظیم و تعلیم وتربیت کے لئے اندرون اور بیرون پاکستان دورے کر کے اہم کردار ادا کیا۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے بیرون پاکستان سے آنے والے مہمانوں کے لئے گیسٹ ہاؤس انصار اللہ کی تعمیر کروائی۔تاریخ انصار اللہ جلد اول صفحہ 288-289) آپ کے دور میں قیادت اشاعت بھی فعال ہوئی۔1969ء میں آپ نے انصار بھائیوں کے نام