یادوں کے دریچے — Page 65
یادوں کے در یح 65 ایک ماہ کی تنخواہ جرمانہ کی جاتی ہے۔مجھے اس فیصلہ سے بڑی خوشی ہوئی کہ حضور نے میرے مؤقف کو ایک طرح تسلیم کر لیا ہے۔سزا اپنی جگہ اور میرے مؤقف کو تسلیم کرنا اپنی جگہ۔میرے اس طریق کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کسی خفگی یا نا راضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔تحریک جدید کے کام شروع کرنے کی ابتداء میں ہی اس واقعہ سے مجھے بڑا حوصلہ پیدا ہوا اور آنے والے سالوں میں متعد دمرتبہ جب کسی فیصلہ کی مجھے سمجھ نہ آتی تو بغیر کسی خوف یا تامل کے حضرت صاحب کی خدمت میں اپنی رائے ضرور پیش کر دیتا اور اس کے نتیجہ میں کبھی کسی خفگی یا ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔کبھی تو سمجھا دیتے کہ ایسے فیصلے کی کیوں ضرورت پیش آئی اور اس کی تعمیل کا حکم دیتے، کبھی میری بات مان لیتے۔بچوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنے کا حکیمانہ طریق جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ مجھے پہلے احمد یہ سکول میں داخل کروایا تھا۔ان دنوں احمدیہ سکول میں انگریزی کی تعلیم ابتدائی کلاسز سے نہیں دی جاتی تھی۔جب انگریزی کی تعلیم شروع کی گئی تو ایک دن ابا جان نے مجھے بلا کر کہا کہ جو انگریزی اخبار میں پڑھتا ہوں ( یہ سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور تھا ) یہ تم ہر روز مجھ سے لے لیا کرو اور پڑھا کرو۔میں خاموش رہا۔میرے چہرہ کے آثار دیکھ کر فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ ابھی تم اس قابل نہیں ہوئے کہ سارا اخبار پڑھ سکو یا سمجھ سکو لیکن تمہیں کھیلوں کا شوق ہے اس میں سے جو کھیلوں کے نتائج کا صفحہ ہوتا ہے وہ پڑھ لیا کرو۔مثلا کرکٹ کے میچ کا ذکر ہوگا تو اس میں کھلاڑیوں کے نام کس نے کتنی دوڑیں بنائیں، کس نے آؤٹ کیا ، بال دینے والوں میں سے کس کس نے کتنی کتنی وکٹیں حاصل کیں وغیرہ کی رپورٹ ہو گی اور تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو گے۔اس کے لئے کسی انگریزی دانی کی ضرورت نہیں۔چنانچہ اس روز سے روزانہ اخبار پڑھنے کے بعد مجھے دے دیتے تھے۔پھر کبھی کبھی یہ دیکھنے کے لئے کہ میں نے پڑھا ہے یا نہیں پوچھ لیتے کہ کل کے اخبار میں فلاں کھیل کی رپورٹ تھی مجھے اس کی تفصیل بتاؤ۔کچھ ہفتوں کے بعد اگلا قدم اٹھایا اور حکم دیا کہ اب خبروں کی جملہ ہیڈنگ بھی پڑھا کرو۔کچھ وقت اور گزرنے کے بعد پورا اخبار پڑھنے کا کہا۔اس طرح اخبار پڑھنے کی چاٹ لگا دی۔جب اس طرف سے تسلی ہو گئی تو ایک دن مجھے بلا کر فرمایا کہ اب انگریزی کتب کا مطالعہ بھی شروع کر دو۔مجھ سے پوچھا کہ کس قسم کے ناول